جانوروں کی خوراک میں چارے کی مسلسل فراہمی کیوں اورکیسے؟

منگل 27 مارچ, 2013

تحریر کنندہ:۔ ڈاکٹر دین محمد مہمند ریسرچ آفیسر لاےؤ سٹاک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سٹیشن سوڑیزئی پشاور

جانوروں کی خوراک میں چارے کی مسلسل فراہمی
جانوروں کی خوراک میں چارے کی مسلسل فراہمی

چارے جانوروں کی خوراک کا سب سے سستا ز ر یعہ ہیں۔ اسی لئے ہمارے ملک میں جانوروں کی خوراک کا بیشتر حصہ بلعموم چارے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر جانوروں کو معیاری چارہ پیٹ بھر کر دستیاب ہو تو انکی بیشتر غذائی ضروریات پوری ہوجا تی ہیں۔اور ونڈے پر انکا انحصار کم ہوجاتا ہے۔ جس سے مویشی پال حضرات کی پیداواری لاگت میں کمی آجاتی ہے اور منافع کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

دوران سال دو موسم ایسے آتے ہیں۔جب چارے کی دست یابی میں کمی ہوجاتی ہے۔ایک تو گرمیوں کے شروع کے مہینے یعنی مئی اور جون ، جب برنیم کی فصل ختم ہورہی ہوتی ہے۔ اور چارے کی اگلی فصل زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے تیار نہیں ہوتی اور دوسرا موسم سردیوں کے ابتدائی مہینوں یعنی اکتوبر اور نومبرمیں، جب خریف کی فصل ختم ہورہی ہوتی ہے۔اور ربیع کی فصل ابھی تیا ر نہیں ہوتی۔ جن دنوں میں چارہ وافر مقدار میں دست یاب ہوتا ہے، اگر اسے محفوظ کرکے رکھ لیا جائے، تو چارے کی کمی کے ایام میں محفوظ شدہ جانوروں کے لئے استعمال کرکے چارے کی فراہمی مسلسل بنائی جا سکتی ہے۔ بلعموم مارچ سے اپریل اور پھر جولائی سے اگست کے مہینوں میں چارہ وافر مقدار میں ہوتا ہے۔ان دنوں میں فاضل چارے کو مختلف طریقوں سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

فصلوں کی پیداوار کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں موسم کے تغیرات سے چارے کی فصل بھی متاثر ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے جانوروں کے لیے سارا سال سبز چارہ میسر نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب سبز چارہ ضرورت سے زیادہ ہو تو اسے خشک کر کے یا خمیرہ چارہ بنا کر محفوظ کر لیا جائے اور قلت کے دوران جانوروں کو کھلایا جائے۔ اس طرح جانوروں کو سارا سال بہتر اور متوازن خوراک فراہم کی جا سکتی ہے۔

خمیرہ چارہ (سائلیج) بنانا:

ہمارے کسان نقد آور فصلوں پر تو خوب توجہ دیتے ہیں لیکن اپنے جانور کیلئے اگائے گئے چارے پر اتنی توجہ نہیں دیتے اور سال میں کسی وقت بھی چارے کی قلت بھی ہو جاتی ہے۔ جس سے جانور لاغر ہو جاتا ہے اور کم پیداوار دیتا ہے۔ جس سے مویشی پال ساتھیوں کو نقصان ہوتا ہے۔ سبز چارے کی وافر مقدار میں دستیابی کسی بھی کمرشل فارمر کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ مختلف قسم کے چارہ جات مختلف موسموں میں اگائے جاتے ہیں۔ زمیندار حضرات کو چاہیے کہ سال بھر کیلئے ایسی منصوبہ بندی کریں کہ سبز چارہ جانوروں کو ملتا رہے۔ سال میں کچھ مہینے ایسے ہوتے ہیں جن میں سبز چارے کی قلت ہو جاتی ہے۔ اس قلت سے بچنے کیلئے کسان حضرات کو چاہیے کہ جس موسم میں سبز چارہ زیادہ اور سستا ہو۔ اس کو ایک خاص طریقے سے ذخیرہ کردیں اور پھر ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔

ذخیرہ شدہ چارہ جس کو سائیلج(خمیرہ چارہ) کہتے ہیں سبز چارے کا نعم البدل کہلاتا ہے۔سبزچارے کا سائیلج نمی والی خمیر شدہ خوراک ہے جسے آکسیجن کے بغیر رہنے والے جراثیم خمیرہ پیدا کرکے محفوظ کرتے ہیں۔

سائیلج (خمیرہ چارہ )کے فوائد:

۔ خمیرہ چارے کی غذائیت ابتداء سے آخر تک یکساں رہتی ہے۔

2۔ چارہ محفوظ کرنے کا یہ انتہائی مفید طریقہ ہے کیونکہ جانور چارے کے پودے کا پورا حصہ اپنی خوراک کے طور پراستعمال کرتا ہے۔

3۔ خشک چارے کی نسبت خمیرہ چارہ محفوظ کرنے کے لئے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

4۔ سبز چارے کی قلت کے دوران یہ جانوروں کے لئے رسیلہ چارہ مہیا کرتاہے۔

5۔ اس کی تیاری میں بہت سے وٹامن ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔

6۔ اس طریقہ سے سبز چارے کو دو تین سال کیلئے آسانی سے محفوظ کیا جا سکتا ہے

7۔ خمیرہ چارہ میں غذائیت متاثر نہیں ہوتی اور جانور ایسے چارے کو شوق سے کھاتے ہیں۔

8۔ سائیلج جانوروں کے لیے سب سے کم لاگت والا اجزائے خوراک ہے۔ اس سے سبز چارہ کھلانے سے جو پودوں کے سخت حصہ (ڈنڈل)وغیرہ ہیں , وہ بھی ضائع

نہیں ہوتے بلکہ سائیلج کی صورت میں جانور ان کو بھی کھا جاتے ہیں۔

9۔ سائیلج کا استعمال سبز چارے کے متبادل کے طور پر کسی قسم کے بُرے اثرات مثلاََ بھوک کا کم لگنا یا ہضم نہ ہونا کے بغیراستعمال کیا جاسکتا ہے۔ جانوروں کی کارکردگی

وغیرہ پر اس کا کوئی بُرا اثر نہیں پڑتا۔ یہ زود ہضم بھی ہے۔

خشک چارہ بنانے میں محفوظیت کا ا صول: سبز چارے میں پانی کی مقدار زیادہ اور خشک مادے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے‘ لہٰذا پہلا اصول یہ ہے کہ سبز چارے میں سے پانی کی مقدار کم کی جائے اس طرح سے خشک مادہ کی مقدار بڑھ جائے گی‘ اگر سبز چارے کو اس حد تک خشک کیا جائے کہ اس میں خشک مادہ کی مقدار 80 فیصد سے زیادہ ہو تو چارہ محفوظ ہو جاتا ہے‘ چارے کو اس حد تک خشک کرنے سے اس پر جراثیم اثر انداز نہیں ہوسکتے لہٰذا چارہ خراب (گلنے سڑنے‘ بوسیدہ اور تحلیل) ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ جراثیم بغیر نمی (یعنی خشک حالات میں) زندہ نہیں رہ سکتے‘ یہی طریقہ انسان بھی اپنی خوراک پھل اور سبزیاں وغیرہ محفوظ کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔

خمیرہ چارہ (سائلیج) بنانے کا طریقہ:

1۔ جس چارے سے سائیلج بنانا ہو اسے ایسے مرحلے میں کاٹ دے جب چارہ زیادہ پکا نہ ہو۔ ایسے موقع پر چارہ جا ت غزائیت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ جوار کے سائلیج کیلئے یہ لازم ہے کہ فصل کو اس وقت کاٹیں جب اس کے پھول تقریباً 30 سے 40 فیصد تک نکل چکے ہوں اور دانوں میں دودھ ہو ۔ اگر نمی زیادہ ہو تو ایک یا دو دن دھوپ میں پھیلا دیں۔ فصل کو صبح کے وقت کاٹے اور کھیت میں بکھر دیں۔ تین گھنٹے بعد پانچے کے ساتھ چارہ الٹ پلٹ کر یں۔ دوسرے دن چارے کو پھر الٹ پلٹ کریں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ بعد از دوپہر چارہ میں مطلوبہ حد تک نمی کی مقدار کم ہو جائے گی۔

2۔ چارے کو فارم پر لا کر اس کو کتر دیں۔ ایک ہی وقت میں چارہ کاٹنے اور کترنے والی مشین مارکیٹ میں موجود ہے۔ اگر چارہ ہاتھ سے کاٹنا مقصود ہو تو کترائی کیلئے ٹوکہ مشین استعمال کریں

3۔ چارہ اگر ناقص قسم کا ہو تو اس پر شیرہ سپرے کریں‘ شیرہ علیحدہ علیحدہ تہہ پر سپرے کرنا چاہئے ۔ اگر چارہ زیادہ خشک ہو تو اس میں کترائی کے وقت شیرہ ڈال دیں تاکہ شیرہ یکساں طور پر چارے میں مل جائے۔ ایک کلو گرام شیرہ فی من چارے میں ڈالیں۔

4۔ سائیلج ایسی جگہ پر بنایا جائے جہاں بارش اور جانوروں کا خطرہ نہ ہو۔ اگر سائیلج فرش پر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

چارے کو محفوظ کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ سائلیج پٹ جو کہ زمین کو کھود کر بنایا جاتا ہے۔ اور دوسرا سائلیج بنکر‘ جو زمین کے اوپر پکی اینٹوں سے بنایا جاتا ہے۔ آغاز میں سائلیج پٹ میں ہی چارے کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ مگر سالہا سال کے استعمال کیلئے بہتر ہے کہ سائلیج بنکر بنایا جائے

سائلیج پٹ میں ایک پلاسٹک کی شیٹ ڈالیں جو کہ اس کے پیندے اور دیواروں کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ شیٹ اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ چارے کو پٹ میں ڈالنے کے بعد اسے ڈھانپ کر مکمل ہوا بند کرسکے۔ سائلیج پٹ کے اندر چارے کی آدھا فٹ اونچی تہہ ڈالیں اور اسے پاؤں یا ٹریکٹر یا مزدورں کی مدد سے اچھی طرح دبائیں تاکہ چارے کے درمیان موجود ہوا خارج ہو جائے۔ اسی طریقے سے آدھے آدھے فٹ کی تہیں لگاتے جائیں اور اچھی طرح دباتے جائیں۔ یہاں تک کہ چارہ زمین کی سطح سے تقریباً 3 فٹ اونچا ہو جائے۔

5 ۔ چارہ کو پلاسٹک سے ڈھانپ دیں اور اوپر مٹی ڈال دیں تا کہ کسی طرف سے بھی چارے میں ہوا داخل نہ ہو سکے۔سبز چارے پر لا تعداد بیکٹیریا زندہ رہتے ہیں‘ فصل کو کاٹنے اور اسے ہوا بند گڑھے یا خندق میں ذخیرہ کرنے پر ایک قسم کی بیکٹیریا جنہیں لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا کہتے ہیں‘ سبز چارے میں موجود تمام شکر کھالیں گی اور ایک ایسا تیزاب پیدا کریں گی جس سے چارے میں میٹھا سا بو (مہک) پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ تیزاب ایک خاص حد تک پہنچ جائے تو سارے بیکٹیریا مر جاتے ہیں۔ اس طرح یہ سبزچارہ ایسے محفوظ ہو جاتا ہے جیسے سرکہ کے برتن میں اچار‘ چونکہ تیزاب پیدا کرنے والے بیکٹیریا صرف ایسے حالات میں کام کر سکتے ہیں جہاں ہوا بالکل نہ ہو‘ اس لئے یہ بہت اہم بات ہے کہ سبز چارے کے ڈھیر کو خوب دبا کر اس میں سے زیادہ سے زیادہ ہو ا نکالی جائے اور پھر اسے اوپر سے ایسے بند کر دیں کہ باہر سے ہوا ڈھیر کے اندر نہ جا سکے۔

6۔ اب اس چارے کوتین سے چار ہفتوں کیلئے اسی طرح رہنے دیں۔

7 ۔ تین سے چار ہفتوں کے بعد چارہ جانوروں کو کھلانے کے قابل ہو جاتا ہے۔سائیلج کو ایک طرف سے کھول دیں اور مطلوبہ مقدار لیکر دوبارہ ڈھانپ لیں تا کہ چارے کے اندر ہوا داخل نہ ہو سکے اور وہ پھپھوندی (Fungus)سے محفوظ رہے اورسائیلج کی افادیت برقرار رہے ، ورنہ جانور کھانے سے انکار کرے گا۔

8۔ سائیلو کو استعمال کے لیے ایک دفعہ کھولنے کے بعد اسے لگاتا ر استعمال کرنا چاہیے۔ وقفوں سے سائیلو کو کھولنے اور سائیلج استعمال کرنے سے سائیلج خراب بھی ہو سکتا ہے۔ پھپھوندی لگی ہوئی خوراک کے حصوں (کناروں پر) کو جانور کو نہیں کھلانا چاہئے۔

دوسرا طریقہ سائیلج بنانے کا یہ ہے کہ کترا ہوا سبز چارہ زمین پر ڈھیر کرکے اسے اچھی طرح سے دبایا جاتا ہے اور اس طرح ایک تہہ کے اوپر دوسری تہہ بنا کر اوپر سے پلاسٹک سے ڈھانپ دیا جائے پلاسٹک کے اوپر نرم مٹی ڈال کر ہوا بند کر لیا جائے‘ ڈھیر کی شکل گول یا چوکر ہو سکتی ہے ۔ اگر کوئی چاہے کہ سائیلج ہموار زمین پر بنالے تو اس صورت میں پلاسٹک کا استعمال ضروری ہے کیونکہ اس صورت میں پانی اور ہوا کے دخول کا احتمال کم ہوگا۔ آخر میں اوپر نرم مٹی ڈال کر لیپائی کر لی جائے نرم مٹی کی تہہ تقریباً ایک فٹ موٹی ہونی چاہئے‘ مٹی کے بوجھ سے سائیلج میں سے باقی ماندہ ہوا کا اخراج ہوگا اور پانی سائیلج کے اندر جانے سے روکے گا۔

خمیرہ چارہ بنانے کے لئے مختلف قسم کے گڑھے بنانے کا دستور ہے۔ان گڑھوں کی شکل اور حجم کا دارومدار کسی علاقے کے موسمی حالات اور ان میں محفوظ کیے جانے والے چارے کی مقدار پر منحصر ہے۔ یہ سطح زمین کے اوپر یا نیچے ہر طرح کے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ شکل کے لحاظ سے گڑھا گول یا چوکور بنایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر 8 فٹ گہرا اور 8 فٹ قطر کا گول گڑھا ایک ایکڑ رقبہ زمین سے حاصل ہونے والے چارے کو محفوظ کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ اتنے ہی چارے کے لئے چوکور گڑھا کاطول، عرض، اور گہرائی ہر ایک 8 فٹ رکھی جاتی ہے۔چارہ خمیرہ کرنے سے قبل اگر گڑھے کے چاروں طرف اور فرش پر پلاسٹک کی شیٹ ڈال لی جائے تو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔مارچ اپریل میں بنایا گیا سائیلج تازہ چارہ کے قلت کے دنوں میں (مئی ‘ جون) اور جون سے نومبر تک بنایا گیا سائیلج نومبر سے جنوری تک جانوروں کو کھلایا جا سکتا ہے۔

سائیلج بنانے کے لیے موزوں سبز چارے:

چارہ جات کی تقریباََ تمام فصلات خمیرہ چارہ بنانے کے لئے استعمال ہو سکتی ہیں لیکن مکئی اور جوار اس مقصد کیلئے نہایت موزوں تصور کی جاتی ہیں۔پھلی دار چارہ میں چونکہ شکر کم اور پروٹین زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ لہذا ان چارہ جات کا خمیرہ بنانے سے قبل تھوڑی مقدار میں پروٹین رکھنے والے چارہ جات یا شیرہ ملانے کی سفارش کی جاتی ہے۔برسیم کا چارہ کثرتِ آب کی موجودگی کی وجہ سے خمیرہ بنانے کے لئے موزوں نہیں۔ البتہ اس میں 25 فیصد بھوسہ، خشک چھلکے یا فصلات کے خشک اجزاء ملا کر خمیرہ بنانے کے امکانات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔جئی کی فصل بھی خمیرہ چارہ بنانے میں کامیابی سے استعمال کی جا سکتی ہے۔ لائیو سٹاک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ صوبہ خیبر پختون خوا کے ذیر انتظام لائیو سٹاک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیشن راکھ بندکورائی پہاڑ پور ڈیرہ اسماعیل خان اور سوڑیزئی پشاور سائیلج تیار کرنے کے سلسلے میں زمیندار کی عملی مدد کر تا ہے۔

خشک چارہ:(Hay)

1۔ ضرورت سے زیادہ سبز چارے کو خشک حالت میں محفوظ کرنے کے لیے چارے کی فصل کو خشک موسم میں کاٹ کر دو تین دن تک دھوپ میں خشک کریں۔

2۔ چارے کو خشک کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ تمام چارے کو یکساں دھوپ میسر آئے اور پتے ضائع نہ ہوں

3۔ چارے کو خشک کرتے وقت اسے ترانگلی یا کسی اور چیز کے ذریعے الٹتے رہیں۔ برسیم کو خشک کرنے کے لیے خاص قسم کے سٹینڈ بھی بنائے جاتے ہیں لیکن ایک عام

زمیندار کے لیے اسے زمین پر پھیلا کر خشک کرنا آسان اور سود مند رہتا ہے۔

4۔ جب خشک کیے گئے چارے میں نمی کی مقدار 30 فیصد سے کم رہ جائے تو اسے گانٹھوں کی شکل میں محفوظ کر لیں۔ نمی کی مقدار معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ

تھوڑے سے خشک چارے کو گٹھے کی صورت میں دونوں ہاتھوں سے مروڑیں۔ اگر نمی ہو گی تو یہ آسانی سے ٹوٹ جائے گا اورٹوٹنے والے حصے پر نمی نہیں ہو گی۔

Livestock, Livestock Farming,

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More