آم کے درختوں پر مکھی کے حملہ کا خدشہ

23مارچ 2013

بور کی مکھی مارچ اور اپریل میں پودوں پر حملہ آور ہو کر پھولوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے
بور کی مکھی مارچ اور اپریل میں پودوں پر حملہ آور ہو کر پھولوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے

ملتان (صابر حسین) محکمہ ذراعت کے شعبہ ابلاغ عامہ نے آم کے باغبانوں کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آم کے بور کی مکھی مارچ اور اپریل میں پودوں پر حملہ آور ہو کر پھولوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ کیڑا پھولوں والی شاخ کے نکلتے ہی ان پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے شگوفہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے اور شاخ پر نکلنے والے تمام پھول خشک ہو جاتے ہیں۔

میڈیا لائیژان یونٹ ملتان کی طرف سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ بور بننے کے مرحلہ میں پودوں کو مختلف نقصان رساں کیڑوں کے حملہ سے بچائیں۔ آم کے بور کی مکھی کا سب سے مؤثر اور آسان تدارک یہی ہے کہ اسے زمین ہی میں ختم کردیں۔

مارچ سے اپریل تک باغ کی آبپاشی کے بعد جب زمین تر وتر کی حالت میں ہو تو درخت کے نیچے زمین پر سرائیت پذیر زہر امیڈا کلوپرڈ ۱۰۰ ملی لٹر یا بائی فینتھرین ۸۰ ملی لٹر فی ۱۰ لیٹر پانی میں ملا کر اسپرے کرنے سے اس کیڑے کے حملہ کی شدت کسی حد تک کم کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ جنوری سے وسط اپریل تک پودوں کے نیچے زمین کو پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دینے سے جو پیوپا زمین میں پڑے ہوتے ہیں وہ باہر نہیں نکل سکتے اور جو سنڈیاں پیوپا بننے کیلئے پودے سے نیچے گرتی ہیں وہ بھی مٹی تک نہیں پہنچ پاتیں اور مر جاتی ہیں ۔ ذرائع ٹیکنا لوجی ٹائم.

Mango Farming in Pakistan 2013
Published:  Zarai Media Team

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More