کلراٹھی زمینوں کی بحالی اور پھل دار درخت

جمعرات 21 مارچ 2013
fruits-summerایک سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 1کروڑ 70لاکھ ایکڑ رقبہ کلرا ور تھور سے متاثرہ ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں یہ رقبہ تقریباً65 لاکھ ایکڑ ہے۔ اس میں سے کچھ رقبہ جزوی طور پر زیرکاشت ہے جبکہ بیشترویران اور بے آباد پڑا ہے۔ اس رقبہ کی اصلاح کے لئے بائیو سیلائن ایگریکلچر کا طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس طریقہ میں کلر اور سیم کے خلاف مدافعت رکھنے والی فصلوں ، پھل دار پودوں اور درختوں کی اقسام کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ ان کے انتخاب کیلئے زمین میں کلر کی شدت، زمین کے دوسرے خواص مثلاً بافت اور ساخت وغیرہ، موسمی حالات، میسر پانی اور دیگر وسائل کی دستیابی کا بغور جائزہ بہت ضروری ہے۔ کلراٹھی زمین میں بیج کو مطلوبہ نمی میسر نہ ہونے کی وجہ سے اگاؤ متاثر ہو تا ہے۔
حل پذیر نمکیات (مثلاً سوڈیم، کیلشیم، کلورائیڈ، میگنیشیم، سلفیٹ اور بوریٹ) کی وافر مقدار پودوں کی جڑوں کے اردگرد جمع ہو جاتی ہے اور ان کے زہریلے اثرات پودوں کے مختلف فعلیاتی نظام (مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جذب کرنا، پروٹین تیار کرنا اور سانس لینا) کو متاثر کرتے ہیں۔
حل پذیر نمکیات پودوں میں پانی حاصل کرنے کی طاقت کم کر دیتے ہیں نتیجتاً پودے میں جڑوں کے ذریعے پانی جذب کر نے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔نمکیات کی زیادتی کی وجہ سے زمین کے محلول میں پودوں کے اجزائے خوراک جذب کرنے کا عمل غیر متوازن ہو جا تا ہے۔کلر کی مقدار اور نوعیت کے اعتبار سے کلراٹھی زمین تین قسم کی ہوتی ہے۔ سفید کلر ، کالے کلر اور سفید اور کالے کلر والی زمین۔ سفید کلر والی زمین میں حل پذیر نمکیات کی مقدار 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ ہو تی ہے۔ مٹی کا تعامل (pH) عموماً 8.5 سے کم ہوتا ہے۔ سوڈیم ، کیلشیم ، کلورائیڈ سلفیٹ اور بوریٹ کے نمکیات پائے جاتے ہیں جو پودوں کی جڑوں کے اردگرد جمع ہو کر ان کو متاثر کر تے ہیں۔ یہ نمکیات سردیوں کے دنوں میں سطح زمین پر سفید رنگ کی تہہ کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ایسی زمینوں میں اگرسطحی اور اندرونی نکاس آب درست ہو اور کاشتکار کے پاس آبی وسائل بھی ہوں تو ایسی زمینوں کی اصلاح آسانی سے کی جا سکتی ہے۔کھیت کو ہل سہاگہ چلا کر ہموار کر کے اس کی مضبوط وٹ بندی کی جائے۔ اس کے بعد دوہرا ہل سہاگہ چلا کرٹیوب ویل یا نہر کے پانی سے کھیت بھر کر کھڑا کر دیا جائے۔ کھیت میں پانی بھر کر کھڑا کرنے کا عمل کئی مرتبہ دہرایا جا ئے تاکہ نمکیات پانی میں حل ہو کر زمین کی نچلی تہوں تک چلے جائیں۔اگر زمین کے نیچے چکنی مٹی کی سخت تہہ ہو تودوہرا چیزل ہل چلاکرپانی کھڑا کرنے کا عمل دوہرایا جائے۔اصلاحی عمل کے بعد زمین کی زرخیزی بڑھانے کیلئے سبز کھاد یا نامیاتی کھاد کا استعمال کیا جائے۔ زمین کی اصلاح کیلئے مارچ، اپریل کے مہنیوں کو منتخب کیا جائے۔ تاکہ اصلاحی عمل کے بعد کھاد یا نامیاتی کھاد کے استعمال کیلئے ڈیڑھ سے دو ماہ کا وقت مل سکے اور خریف میں فصلوں کی کاشت کا آغاز دھان سے کیا جائے۔کالے کلر والی زمین میں حل پذیر نمکیات کی مقدار محفوظ حد کے اندر ہوتی ہے یا قابل تبادلہ سوڈیم کی مقدار متعین حد (15 فیصد( سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان زمینوں کا تعامل 8.5 سے زیادہ ہو تاہے۔ سوڈیم کی زیادتی کی وجہ سے زمین بہت سخت ہو جاتی ہے۔
اور زمین کے مسام بند ہو جاتے ہیں۔ اور اس میں ہوا اور پانی کا گزر نہیں ہو تا ہے۔ نتیجتاً پودوں کی جڑیں آکسیجن حاصل نہیں کر سکتیں جس سے پودوں کی نشوونما متاثر ہو تی ہے۔صوبہ پنجاب میں کالے کلر والی زمینوں کا 80 فیصد حصہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے۔کالے اور سفید کلر والی زمین کی ایک ہی طریقہ سے اصلاح کی جا سکتی ہے۔ ایسی زمینوں میں اگر سطحی اور اندرونی آبی نکاس اچھا ہو اور کاشتکار کے پاس اچھے پانی کی مقدار بھی وافر ہو تو ایسی زمینوں کی اصلاح آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
کھیت کو اصلاح سے پہلے کراہ کے ذریعہ اچھی طرح ہموار کرلیں،ہل سہاگہ چلا کر مضبوط وٹ بندی کر لیں۔ کھیتوں سے مٹی کے نمونے لے کر لیبارٹری سے تجزیہ کروا کر جپسم کی صحیح مقدار کا اندارہ کر لیں۔ہموار کھیتوں میں دو مرتبہ ہل چلائیں۔ اس کے بعد عام ہل سہاگہ چلا کر مٹی کو بھر بھرا کر لیں اور جپسم کا 2/3 حصہ کھیت میں یکساں مقدار میں بکھیر دیں۔دوبارہ ہل سہاگہ چلا کر جپسم کو اچھی طرح کھیت میں ملا دیں اور بقیہ 1/3 حصہ زمین کے اوپر بکھیر دیں۔ کھیت کو 15-10 دن کیلئے ٹیوب ویل کے اچھے پانی یا نہر کے پانی سے بھر کر کھڑا کریں۔ اصلاح کے بعد ان کھیتوں میں ہر قسم کی فصل ، پودے اور درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ایسی زمینیں جو کلر و تھور سے زیادہ متاثر ہوں، اچھا پانی دسیتاب نہ ہو اور اُن میں فصلات کی کاشت نہ کی جا سکتی ہو وہاں پر باغات آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں۔ کھیت میں ہل سہاگہ چلا کر کھیت کو ہموار کردیں۔ پھر دوہرا چیزل ہل چلائیں۔ اس کے بعد سفارش کردہ قطاروں کے درمیانی فاصلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھیت میں کھیلیاں بنا لیں اور کھیلیوں کے کناروں( Shoulder)پر 3 x 3 3x فٹ گہرے گڑھے کھود لیں۔ ان گڑھوں کو جپسم + بھل+ گوبر کی کھاد (1+1+1) کے آمیزے سے پودے لگانے سے ایک ماہ پہلے اچھی طرح بھر دیں۔ پھر ان گڑھوں کو کھیلیوں کی مدد سے پانی دیں۔ جب گڑھے کی مٹی اچھی طرح بیٹھ جائے اور وتر آنے پر اس کے درمیان میں مطلوبہ پودا لگائیں۔ اس طریقہ سے ہر قسم کے پھلدارپودے اور درخت ہر قسم کی زمینوں میں کامیابی سے لگا سکتے ہیں۔قدرت نے کچھ پھلدار درختوں میں سیم اور کلر کے خلاف قوت مدافعت برداشت پیدا کر کے انہیں اس قابل بنا دیا ہے کہ یہ درمیانی متاثرہ زمینوں میں اپنی زندگی گزار سکیں۔ اس لیے ان درختوں کا انتخاب کر کے متاثرہ زمینوں میں اُگایا جا سکتا ہے۔ زمین ٹیسٹ کروانے کے بعد اس میں موجود نمکیات کی مقدار کا پودے کی قوت مدافعت کی حد سے موازنہ کر کے یہ انتخاب ممکن ہو جا تا ہے۔ان پودوں میں فالسہ، کھجور، امرود، جامن اور بیر شامل ہیں۔زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

فالسہ

فالسہ ایک قابل ذکر کلر کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والا پھل ہے۔ جس کی مزاحمت کی 10 dSm-1ہے۔ ایسی زمینوں میں یہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اور 2 سے 3 سال کی عمر میں پھل لے آتا ہے۔یہ 9 سے 12 فٹ اونچی جھاڑی ہے۔ ہر سال پھل توڑنے کے بعد پودوں کی شاخ تراشی کی جا تی ہے۔ پھل مارچ سے لے کر جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں پکتا ہے۔ اگر پودوں کو جولائی میں کاٹ دیاجائے تو نومبر ، دسمبر میں دوسری فصل بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس پودے میں سردی اور خشک سالی کے خلاف بھی قوت مدافعت ہے۔

فالسہ کو بیج کے ذریعے اُگایا جا تا ہے۔2 سے 3 ہفتے میں بیج اُگ آتے ہیں۔ فروری، مارچ میں پود کھیتوں میں لگانے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ پودوں کو 6 سے 9 فٹ کے فاصلے پر لگایا جا تا ہے۔ کلر والی زمینوں میں فاصلہ کم رکھا جا تا ہے۔ پودوں کو کاٹنے کے بعد 8-6 کلو گرام فی پودا گوبر کی کھاد فروری کے مہینے میں ڈالی جا تی ہے۔ فالسہ کی سالانہ کٹائی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ پھل صرف نئی شاخوں پر لگتا ہے۔ پودوں کو 4-3 فٹ کی اونچائی پر کاٹنا چاہیے۔

کھجور

کھجور کا پودا کلر سے متاثرہ زمینوں میں آسانی سے پرورش پا سکتا ہے۔ جب زمین میں نمکیات کی مقدار dSm-1 4 سے بڑھ جائے تو پیداوار میں کمی واقع ہو تی ہے۔ حتی کہ 17.9 dSm-1سے بڑھ جائے تو پیداوار میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہو تی ہے۔ اچھی فصل کیلئے زمین کا ہلکا اور اچھی نکاس والا ہونا ضروری ہے۔ پتھریلی اور ٹھوس زمین اس کی نشوونما کیلئے غیر موزوں ہے۔

کلر کے علاوہ گرمی سردی اور خشکی کے خلاف قوت مدافعت اس میں پائی جا تی ہے۔ نئے درخت لگانے کیلئے پرانے درختوں کے ساتھ اُگے ہوئے

5-3 سال کے بچوں (Suckers) کو تیار شدہ زمین میں 25-21 فٹ کے فاصلے پر منتقل کیا جا تا ہے۔ نئے پودے لگانے کا موسم فروری، مارچ یا اگست،

ستمبر ہے۔ مناسب فاصلے پر نر پودے بھی لگائے جا تے ہیں۔ اچھی پیداوار کیلئے نر پودوں کا بور مادہ پودوں پر ڈالا جا تا ہے۔ گوبر کی کھاداور نائٹروجن کا استعمال

(1 کلو گرام یوریا) فی جوان پودا بہت ضروری ہے۔

امرود

امرود ایک جھاڑی دار درخت ہے۔ جس کی اوسطاً اونچائی 15-12 فٹ ہو تی ہے۔ امرود کو درمیانی شورزدہ زمین میں کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے۔ شدید متاثرہ زمینوں میں اس پودے کونہیں لگانا چاہیے۔ عام زمینوں میں یہ پھلدار درخت ریتلی سے بھاری میرا زمینوں میں پرورش پا سکتا ہے۔ امرود کے پودے فروری، مارچ یا ستمبر، اکتوبر میں لگائے جا تے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو پھلدار پودے کلراٹھی زمینوں میں اوپر دیئے گئے طریقہ سے لگائے گئے ہیں چار پانچ سال کے بعد پھل دیناکم کر دیتے ہیں۔ ادارہ ھذا میں تجربات کیے گئے ہیں جس سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر امرود کا باغ اوپر دیئے گئے طریقہ سے لگایا گیا ہو اور پیداوار دینا کم کر دے تو باغ کو کھیت کی ضرورت جپسم (100 فیصد) 40+ کلو گرام گوبر کی کھاد 2+ کلو گرام یوریا فی پودا ڈال دے جائے تو امرود کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیاجا سکتا ہے۔

جامن

جامن گرم ترین نیم مرطوب علاقوں کا سدا بہار پودا ہے۔ جس کا قد50 سے 60 فٹ میٹر تک ہو تا ہے۔ اس میں کلر سے متاثرہ درمیانی شدت کی زمینوں میں نشوونما پانے کی خاصیت پائی جا تی ہے۔جامن کو بیج سے اگایا جا تا ہے۔ بیج کو جون، جولائی میں کیاریوں میں بو دیا جاتا ہے۔ کیاریوں میں گوبر کی کھاد کافی مقدار میں ملائی جا نی چاہیے۔ بیج 3 سے 6 ہفتے بعد اگتے ہیں۔ سات آٹھ سال کا پودا پھل دینے قابل ہو جا تا ہے۔ پودے بارش کے موسم میں منتقل کئے جائیں۔ پودوں کا فاصلہ 30 سے35 فٹ رکھا جائے۔ سات آٹھ سال کا پودا پھل دینے کے قابل ہو جا تا ہے۔ اس کے پھول مارچ، اپریل میں نکلتے ہیں اور پھل جون ،جولائی میں پک کر تیار ہو جا تا ہے۔ ایک اچھا درخت 150 تا 160 کلو گرام پھل دیتا ہے۔

بیر

یہ پودا پورے پاکستان میں ہو تا ہے۔ یہ پودا درمیانے درجہ سے لے کا شدت کے کلر کو برداشت کر سکتا ہے اورکورے کے خلاف بھی قوت مدافعت رکھتا ہے۔ نئے پودے پیوندے سے تیار کئے جاتے ہیں۔ بیج سے پودے اُگا کر ان پر مطلوبہ قسم کے پودے کا پیوند کیا جا تا ہے۔بیج 3 سے6ہفتوں میں اُگتا ہے۔18 مہینے کے پودے کوکانٹ کر ایک ٹہنی پر پیوند کا جا تا ہے۔ پیوند کاموسم مارچ، اپریل یا اگست ، ستمبر ہے۔پودے 35 تا 40 فٹ کے فاصلے پر لگائے جا تے ہیں۔ ہر دو تین سال بعد کانٹ چھانٹ کی جا تی ہے۔ کیونکہ پھل صرف نئی شاخوں پر لگتا ہے۔ برسات کے موسم میں20 کلو گرام گوبرکی کھاد فی پوداڈالنی چاہیے۔ پھل کی مکھی (Fruit Fly) کے خلاف سپرے کیاجائے۔ پیداوار تقریباً 100 کلو گرام فی پودا سالانہ ہو تی ہے۔

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More