بھارتی وایرانی پھلوں کی بہتات، پاکستانی تاجروں کو خسارہ

دونوں ملکوں نے پاکستانی پھلوں کیلیے منڈیاں بند کررکھی ہیں، زرعی شعبے کو نقصان کا اندیشہ
دونوں ملکوں نے پاکستانی پھلوں کیلیے منڈیاں بند کررکھی ہیں، زرعی شعبے کو نقصان کا اندیشہ

جمعرات 21 مارچ 2013

کراچی: بھارت کی جانب سے پاکستان کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود پاکستانی پھلوں کو بھارتی مارکیٹ میں سخت ترین نان ٹیرف رکاوٹوں کا سامنا ہے تاہم پاکستانی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی نااہلی کی وجہ سے بھارتی پھلوں کی وافر مقدار دبئی کے ذریعے پاکستان درآمد کی جارہی ہے۔

پاکستانی فارمرز اور پھلوں کے تاجروں کو بھارت کے ساتھ ایرانی پھلوں کی بھی یلغار کا سامنا ہے،  ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کو تیسرے ملک سے بھارتی پھلوں کی غیرقانونی درآمد اور ایرانی سیب کی یلغار روکنے کے لیے متعدد ہنگامی خطوط ارسال کیے جاچکے ہیں مگر  کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے بھارتی اور ایرانی پھل بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز سے نکل کر سڑکوں اور بازاروں میں  ٹھیلوں پر بھی فروخت ہورہے ہیں اورفارمرزو تاجر خسارے سے دوچار ہیں۔

کراچی سبزی منڈی میں پھلوں کے تاجروں کے مطابق پاکستانی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ میں کرپشن پورے عروج پر ہے، دنیا میں کوئی بھی ملک تیسرے ملک سے پھل سبزیوں اجناس اور دیگرکھانے پینے کی اشیا کی درآمد کی اجازت نہیں دیتا اور صرف کنٹری آف اوریجن کا ہی فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم دبئی کے راستے بڑے پیمانے پر بھارتی انگور پاکستان درآمد کیا جارہا ہے۔

حالیہ سیزن میں دبئی سے ہفتہ وار 6 سے 7 کنٹینر انگور پاکستان درآمد کیے جارہے ہیں، کنٹینرز کی اگلی قطار میں ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا کے انگور رکھے جاتے ہیں جبکہ باقی کنٹینر بھارتی انگوروں سے بھرا ہوتا ہے، یہ انگور تھوک سطح پر 225 سے 250 روپے کلو جبکہ خوردہ سطح پر 350 سے 400 روپے کلو فروخت کیے جارہے ہیں، ہفتہ وار 175 ٹن انگور درآمد کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ایران پر عالمی پابندیوں کے سبب ایرانی سیب کی وافر مقدار پاکستانی مارکیٹ میں ڈمپ کی جارہی ہے، ایرانی سیب برائے نام درآمدی ڈیوٹی کے عیوض کلیئر کیے جارہے ہیں، ایرانی سیب کی قیمت میں 50 فیصد فرق کی وجہ سے پاکستانی سیب کے کاشتکاروں اور تاجروں کو خسارے کا سامنا ہے، ایرانی سیب تھوک سطح پر 40 سے 45 روپے کلو جبکہ خوردہ سطح پر 100  روپے کلو تک فروخت کیا جارہا ہے جبکہ پاکستانی سیب کی تھوک قیمت 120 سے 150 روپے کے درمیان ہے، فروخت میں کمی کے باعث کاشتکار و تاجر کولڈ اسٹوریج میں سیب محفوظ کرنے پر بھاری اضافی اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔

ایرانی سیب کی درآمد کے لیے بھی قرنطینہ کے طریقہ کار اور ضوابط کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، ایرانی سیب کی یلغار روکنے کے لیے کاشتکاروں اور تاجروں کے مطالبے پر چیف سیکریٹری بلوچستان بھی وفاقی وزارت تجارت اور متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کرچکے مگر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، ایران اور بھارت دونوں نے پاکستانی پھلوں کے لیے منڈیاں بند کردی ہیں، بھارتی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے آن لائن پورٹل میں پاکستان کو شامل نہ کرنے پر دسمبر کی نمائش میں پاکستان سے ایک کنٹینر کینو بھی بھارت لے جانے کی اجازت نہ مل سکی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے  پاکستان سے کینو کی درآمد کے لیے اجازت نامے جاری نہیں کیے جس سے پاکستانی کینو کی برآمد میں 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ فروٹ ٹریڈرزکے مطابق پھلوں کی غیرقانونی درآمد اور ڈمپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب پاکستان پھل برآمد کرنے والے ملکوں سے نکل کر درآمد کرنے والے ملکوں کی فہرست کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے زرعی شعبے کے لیے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔

Pakistani Fruits, Indian Fruits, Irani Fruits

Source Express

Published:  Zarai Media Team

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More