یورپی یونین نےپاکستان سے مچھلی کی درآمدپر عائد پابندی اٹھالی

یورپ اب پاکستانی مچھلی اور اس کی مصنوعات کے ذائقے سے محظوظ ہو سکے گا۔ یورپی یونین نے پانچ سال سے پاکستانی فش پروڈکٹس پر عائد پابندی اٹھا لی۔
یورپ اب پاکستانی مچھلی اور اس کی مصنوعات کے ذائقے سے محظوظ ہو سکے گا۔ یورپی یونین نے پانچ سال سے پاکستانی فش پروڈکٹس پر عائد پابندی اٹھا لی۔

کراچی (بزنس رپورٹر)یورپی یونین نے پاکستان سے مچھلی کی درآمدپر عائد پابندی 6سال بعد اٹھالی ہیں-

پاکستا ن سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیرمین افتخار زیدی نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ پاکستان سےدرآمد کے لیے وہ 12مارچ تک اپنے رکن ممالک کو مطلع کرے گی تاکہ وہ پاکستان سے براہ راست مچھلی کی درآمدات شروع کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر 2ملکی کمپنیاں مچھلی کی برآمدات کریں گی جبکہ ایک ماہ کے بعد 4 مزید کمپنیاں یورپی یونین کے ممالک مچھلی کی برآمدات کریں گے ۔
یورپی یونین کی پابندی ختم ہونے سے مچھلی کی درآمدات میں3سے 5 کروڑ ڈالر کے اضافے کا امکان ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ یورپی یونین کی پابندی سے قبل 11رجسٹرڈ ایکسپورٹرز تقریباً 5 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی مچھلی پاکستان سے برآمد کرتے تھے ۔
2007 میں یورپی یونین نے پاکستانی مچھلی کی ہینڈلنگ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ملکی سمندری خوراک کی درآمدات پر پابندی عائد کردی۔ تاہم پابندی کے باوجود بھی پاکستان کی سی فوڈ برآمدات نہ رک سکی اور گزشتہ سال 2012میں بھی سمندری خوراک کی برآمدات 6فیصد اضافے سے 5032 ٹن ریکارڈ کی گئی۔
اس طرح پہلی بار پاکستان سے سمندری خوراک کی برآمد 21کروڑ 50لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی۔ماہرین نے مزید کہا کہ چین ،مصر، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید جیسی بڑی منڈیاں ملنے کے بعد یورپی یونین کی پابندی کے اثرات زائل ہوگئے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کی منڈی تک دوبارہ رسائی سے اس کی ایکسپورٹ کو جلد 1ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا ۔
حکومت کے محکمہ فشریز کی جانب سے لانچوں کی موڈیفیکیشن اور جدید مشینری سے آراستہ نئے آکشن ہال K-II کے افتتاح اور اس سلسلے میں متعلقہ وزارت کے یورپی یونین سے مذاکرات کے بعد توقع ہے کہ یورپی یونین 12 مارچ سے ملکی سمندری خوراک کی درآمد پر پابندی اٹھالے گا۔ ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی منڈی کے آغاز کے ساتھ ہی ملکی سمندری خوراک 31کروڑ ڈالر سے 1ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا ۔
Courtesy:Dunya

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More