پولٹری انڈسٹری کی ترقی کیلئے قرضے دیئے جائینگے

پولٹری انڈسٹری (Poultry industry in Pakistan)
پولٹری انڈسٹری (Poultry industry in Pakistan)
ملک میں پولٹری صنعت کو قرضے دینے کی کوئی پالیسی نہیں،افغانستان کو زندہ مویشی،پولٹری برڈز اورفیڈ برآمد کرنے پر پابندی ہے،وفاقی وزیر گوادر اور جیوانی کے درمیان آپٹیکل فائبر لنک کی تعمیری لاگت36.78کروڑ روپے ہے،چین سے معاہدہ اچھی شرائط پر کیا، وزارت انفارمشین ٹیکنالوجیپاکستان کو چائے کی کاشت میں خود کفیل بنانا چاہتے ہیں، 607ایکڑ رقبے پر چائے کی کاشت کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات، قومی اسمبلی میں جواب اسلام آباد(اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پولٹری کی صنعت کو قرضے فراہم کرنے پر غور کیا جائے گا۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران خالدہ منصور کے سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پولٹری صنعت کو قرضے فراہم کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے تاہم اس پر غور کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے ملک میں لائیو سٹاک یا مویشیوں کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم خیبر پختونخوا کی عدالت عالیہ نے زندہ مویشیوں، گوشت، پولٹری برڈز اور پولٹری فیڈ کی افغانستان برآمد پر پابندی عائد کی ہے۔
طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے سید خورشید احمد شاہ نے ایوان کو بتایا کہ گوادر اور جیوانی کے درمیان آپٹیکل فائبر بیسڈ ٹرانسمیشن لنک سے متعلق منصوبے کی تعمیری لاگت 36 کروڑ 78 لاکھ روپے ہے، گوادر منصوبہ کا چین سے معاہدہ اچھی شرائط پر کیا گیا ہے۔ سید خورشید احمد شاہ نے ایوان کو مزید بتایا کہ آپٹیکل فائبر بیسڈ ٹرانسمیشن لنک سے متعلق منصوبے کا آغاز 2004 میں ہوا اور یہ 36 کروڑ میں مکمل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں گوادر پر لگی ہوئی ہیں، گوادر ترقی کرے گا تو ملک میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گا، گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ ہوا ہے۔ دریں اثناوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی و ریسرچ کی جانب سے ایوان کو بتایا کہ ملک کے کئی علاقوں میں چائے کی کاشت کامیابی سے ہوئی ہے، قیمتی زرمبادلہ بچانے کیلئے ہم پاکستان کو چائے کی کاشت میں خود کفیل بنانا چاہتے ہیں۔
چائے کی کاشت کی تحقیق پر کافی خرچ آ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں کامیابی سے اس کی کاشت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کام کا آغاز74-1973 میں کیا گیا تھا۔ 1986میں نیشنل ٹی ریسرچ اسٹیشن قائم کیا گیا۔1991میں اسے انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیا گیا۔اس کا ہیڈ آفس شنکیاری مانسہرہ میں ہے۔
اس کے علاوہ شنکیاری، بٹگرام،سوات اورآزاد جموں و کشمیر میں چائے کی نرسریاں قائم کی گئی ہیں۔ کل 607 ایکڑ رقبہ پر چائے کی کاشت کی جا رہی ہے۔08-2007 میں سرکاری نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے چائے کی پیداوار کو تجارتی بنانے کے عنوان سے 5 سالہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس کیلئے کل 5 ارب 27 کروڑ 22 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے تاہم وزارت خوراک و زراعت کے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خاتمے کے بعد آزاد کشمیر کو اس منصوبے سے ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے عباس پور میں نرسری کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے۔
Poultry industry in Pakistan
Courtesy: Duniya

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More