زرعی ترقی اور غذائی استحکام

زرعی یونیورسٹی فیصل آبادہینڈ آؤٹ

فیصل آباد2 فر وری 2013ء ( )سیکرٹری زراعت پنجاب عظمت علی رانجھا نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی ترقی اور غذائی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے لئے زراعت سے وابستہ سرکاری و نجی اداروں اور کسان تنظیموں کو مر بوط کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی ۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈینز وڈائریکٹرز کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی کا انحصار بلواسطہ یا بلا واسطہ زراعت سے ہے اس لئے اس شعبے کو ترقی دیئے بغیر نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ۔ سیکرٹری زراعت نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں نئی جدتوں کی بہت گنجائش ہے جسے فروغ دینے کے لئے یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو نئی سمت کی جانب سفر کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو مالی وسائل فراہم کرنے اور یہاں پنجاب حکومت کی جانب سے ادھورے منصوبوں کی تکمیل کے لئے اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے ۔ عظمت علی رانجھا نے یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ثمرات عام کسانوں تک پہنچانے کے لئے زرعی توسیعی شعبے کو آگے آنا چاہئے ۔ ان سے پہلے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود یونیورسٹی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقی منصوبوں کے حصول کو یقینی بناتے ہوئے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 400 ملین سے 1890 ملین کے خطیر وسائل کا اہتمام کیا ہے جسے آنے والے دنوں میں مزید بہتری سے ہمکنار کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگست میں یونیورسٹی میں ایگریکلچرل پالیسی سنٹر کام کا آغاز کرے گا جس کے بعد ملکی سطح پر زراعت کی ترقی کے لئے تھنک ٹینک کے سفارشات دستیاب ہوں گی ۔ ڈاکٹر اقرار احمد نے بتایا کہ آٹھ فر وری سے بارہ فر وری تک بین الاقوامی نیزہ بازی کے مقابلے یونیورسٹی میں منعقد کئے جائیں گے ۔ بارانی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے یونیورسٹی میں پانی کی بچت اور متبادل توانائی کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک ایسا مر بوط ماڈل تر تیب دیا گیا ہے جس کے ذریعے ایک ہی جگہ پر بائیو گیس ‘ سولر انرجی ‘ بائیو فیول ‘ آرگینک کھاد‘ مرغیوں کی خوراک‘ جانوروں کے لئے خشک غذا اور مچھلی فارم قائم کئے گئے ہیں جو ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے پوسٹ ہارویسٹ لیبارٹری ‘ سنٹر آف ایگریکلچرل بائیو کیمسٹری اینڈ بائیو ٹیکنالوجی‘ روزا پراجیکٹ‘ سٹرس پراجیکٹ‘ یونیورسٹی میں چار ماہ میں تیار ہونے والی سرسوں کی فصل ‘ مانسینٹو کا نمائشی پلاٹ‘ پولٹری فارم ‘ڈیری فارم اور دیگر منصوبوں کا معائنہ بھی کیا بعد ازاں وہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کیلئے روانہ ہو گئے ۔

Agriculture in Pakistan

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More