بائیو سیفٹی: زرعی یونیورسٹی

زرعی یونیورسٹی فیصل آبادہینڈ آؤٹ
27jan2013_uafفیصل آباد27 جنوری 2013ء (زرعی میڈیا ڈاٹ کام)دنیا کی ممتاز ٹرانس جینک سیڈ کمپنی مانسینٹو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ساتھ مل کر بائیو سیفٹی کنٹرول کے پیمانوں پر پورا اترتے ہوئے کسانوں ‘ اساتذہ اور طلبہ کے لئے نمائشی پیدا واری یونٹ کا آغاز کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں شعور اجاگر کیاجا سکے گا ۔ان باتوں کا اظہار مقررین نے مانسینٹو پاکستان کے زیر اہتمام زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے کیمپس پر کنٹرول ماحول میں بائیو سیفٹی کے تحت لگائے جانے والے پہلے پیدا واری نمائشی پلاٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں تھے جبکہ امریکی یونیورسٹیوں کے سائنسدان مہمان اعزاز کے طور پر شریک ہوئے ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ جامعہ زرعیہ کسانوں تک جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے لئے مسلسل کاوشیں بروئے کار لا رہی ہے اور یہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کی اہم ترین سیڈ کمپنی یونیورسٹی میں اپنے پیدا واری آپریشن کا آغاز کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر سیڈ کمپنیوں کو بھی یونیورسٹی میں اپنی پیدا واری نمائش کے لئے رقبہ مختص کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ مسابقت کا آغاز ہو سکے ۔ اس موقع پر مانسینٹو کے ریگولیٹری افیئرز کے سر براہ مسٹر عاصم نے کہا کہ عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ خوراک کی پیدا وار حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں سائنسدانوں‘ کسانوں اور دیگر افراد کو مل کر حصہ لینا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں لگائے جانے والے اس پہلے نمائشی پلاٹ کے ذریعے کسانوں کو بائیو ٹیکنالوجی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں مدد مل سکے گا ۔

فیصل آباد27 جنوری 2013ء ( )زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ 6روزہ بین الاقوامی پاک امریکہ و افغانستان سہ فریقی ورکشاپ برائے ’’ نوجوان توسیعی ماہرین کی استعداد کار میں اضافہ‘‘ اختتام پذیر ہو گئی ۔ اختتامی سیشن کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کی جبکہ مہمان اعزاز کیلیفورنیا یونیورسٹی ڈیوس کے ڈپٹی ڈین ڈاکٹر جیم ہل اور ڈاکٹر جیری پیٹرز تھے ۔ اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تحقیقی کاوشوں کو پاکستانی ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اس قسم کے سہ فریقی پرو گراموں کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو پنجاب زراعتی کالج لائل پور سے مغربی پاکستان زرعی یونیورسٹی کا درجہ ملنے پر واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی پل مین کے 10سے زائد سائنسدانوں نے جس طرح اپنے خاندانوں کے ہمراہ یہاں مقیم رہ کر دس سال تک یونیورسٹی کا ڈھانچہ اور تعلیمی و تدریسی نظام وضع کیا وہ ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تو سیع کے شعبے کو فعال بناتے ہوئے خطے میں غذائی استحکام کی ٹھوس بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔ ڈاکٹر جیم ہل نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں زرعی تعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس مقصد کے لئے امریکی محکمہ زراعت کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا مستقبل کا اہم چیلنج بن چکا ہے جسے پورا کرنے کے لئے ہمیں مزید کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی ۔ جیری پیٹرز نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے امریکہ سمیت مغربی دنیا میں ایک خوفناک میڈیا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقی تصویر دکھانے کے لئے کوئی سنجیدہ کاوشیں نہیں کی جا رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نسلی ‘ گروہی‘ علاقائی اور رنگ و نسل کے فرق کو مٹاتے ہوئے انسانیت کی بھلائی اور امن کے لئے مل جل کر کاوشیں کرنا ہو گی ۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ 6روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کے دوران جس طرح تینوں ملکوں کے سائنسدانوں اور ماہرین نے مل کر ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کی ہے اس کے ہماری زراعت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔ تقریب سے چیلو آبرنیلا‘ چک سشسٹر ‘ پین کوک کریس‘ لوئس فرگوسن‘ گرانٹ ڈیول ‘ جیک لین ویلسن ‘اینڈریو رابرٹسن اور افغان توسیعی ماہرین نے بھی خطاب کیا ۔

27jan2013_uaf2

UAF, Agriculture in Pakistan
Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More