سورج مکھی کی کاشت

January 25, 2013

سورج مکھی کی کاشت
سورج مکھی کی کاشت

ہمارے ملک میں خوردنی تیل خوراک کا اہم حصہ ہے۔ ہم اپنی ملکی ضروریات کا صرف 30فیصد خوردنی تیل پیداکررہے ہیں اور باقی 70فیصددرآمد کرنا پڑتا ہے۔ جس پر کثیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔پنجاب میں 2011-12کے دوران سورج مکھی کے زیر کاشتہ رقبہ 1لاکھ 14ہزار 260ایکڑ سے مجموعی پیداوار 94ہزار 50ملین ٹن حاصل ہوئی۔ پنجاب میں سورج مکھی کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً 22من ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے خوردنی تیل کی درآمد میں ہرسال بتدریج اضافہ ہورہاہے اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ تیلدار فصلات خاص کر سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ خوردنی تیل کی درآمد پر انحصارکم کرکے زرمبادلہ کی بچت کی جا سکے۔سورج مُکھی کا شمار اہم خوردنی تیلدار اجناس میں ہوتا ہے۔ سورج مُکھی کی فصل خوردنی تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار اداکرسکتی ہے کیونکہ اس کے بیج میں اعلیٰ قسم کا تقریباََ 40فیصد تیل ہوتا ہے۔ مزیدبرآں اس کے تیل میں انسانی صحت کے لئے ضروری حیاتین ‘اے’ ، ‘بی’اور ‘کے’پائے جاتے ہیں ۔ اس فصل کا دورانیہ تقریباََ 90سے 110دن ہوتا ہے اور کم مدت کی فصل ہونے کی وجہ سے اسے دوبڑی فصلوں کے درمیانی عرصہ میں آسانی سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔

پنجاب میں جس طرح زیادہ تر کپاس، گنا، دھان اور گندم کی فصلیں کامیابی سے کاشت کی جارہی ہیں اسی طرح سورج مکھی کی فصل بھی کامیابی سے کاشت ہوسکتی ہے ۔ مزید برآں کاشتکار حضرات اگر ربیع (خصوصاً گندم) کی فصل کسی وجہ سے وقت پر کاشت نہ کر سکیں ہوں تو سورج مکھی کی کاشت سے خاطر خواہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کے لئے بہت موزوں ہے۔ سیم زدہ اور بہت ریتلی زمین اس کے لئے موزوں نہیں ہے۔ زمین کی تیاری کے لئے راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرا ئی تک چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جا سکیں۔ دھان والے کھیتوں میں یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ایسی زمینوں میں سخت تہہ پائی جاتی ہے جس کو گہرا ہل چلا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ سورج مکھی کی کاشت کے لئے کھیت کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔

سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے صحیح وقت پر اس کی کاشت انتہائی ضروری ہے۔ بارانی علاقوں میں اس کی کاشت کا انحصار زیادہ تر بارشوں کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ سورج مکھی کی فصل سال میں دو مرتبہ کاشت کی جا سکتی ہے۔ ایک موسم بہار میں اور دوسری موسم خزاں میں۔ آج کل سورج مکھی کی بہاریہ کاشت کا عمل جاری ہے بہاریہ کاشت کے لیے یکم جنوری تا آخر فروری انتہائی موضوع وقت ہے ۔ سورج مکھی کی کاشت کے لئے شرح بیج کا انحصار زمین کی قسم، بیج کی شرح روئیدگی، وقت کاشت اور طریقہ کاشت پر ہوتا ہے۔کاشتکار سورج مکھی کے اچھے اگاؤ والے صاف ستھرے دوغلی اقسام کے بیج کی فی ایکڑ مقدار دو تا اڑھائی کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔ بیج کا اگاؤ 90 فیصدسے زیادہ ہونا چاہئے ۔ اگر اگاؤ کی شرح کم ہو تو بیج کی مقدار اسی حساب سے بڑھائی جائے ۔

سورج مکھی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے فصل کا قطاروں میں کاشت کرنا بے حد ضروری ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو تا اڑھائی فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رکھیں۔ سورج مکھی کا بیج تروتر میں کاشت کیا جائے اور بیج کی گہرائی زیادہ سے زیادہ دو انچ ہو۔ اگر کھیلیوں پر کاشت کرنا ہو تو کھیلیاں آلو کاشت کرنے والے رجر سے شرقاً غرباً نکالیں۔ کھیلیوں میں پہلے پانی لگائیں اور جہاں تک وتر پہنچے اس سے تھوڑا اوپر خشک مٹی میں جنوب کی طرف بیج لگائیں۔

سورج مکھی کی کاشت کے لئے پلانٹر، ٹریکٹر ڈرل یا سنگل رو کاٹن ڈرل، پور یا کیرااور ڈِبلنگ(چوپا) کے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ ڈِبلنگ(چوپا) کے ذریعے سورج مکھی کی کاشت نہایت مفید ہے۔ اس طریقہ کاشت میں پہلے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر وٹیں بنالی جاتی ہیں پھر پانی دے کر ہر 8 تا 9 انچ کے فاصلے پر سوراخ کرکے ایک ایک بیج ڈالا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ بیج پانی میں نہ ڈوبے۔کھیلیوں پر لگائی ہوئی فصل کو بہتراگاؤ کیلئے جلد آبپاشی کرنی چاہئے۔

موجودہ سائنسی دور میں زمین کی بنیادی زرخیزی، زمین کا کیمیائی تجزیہ/کلراٹھاپن، اسکی قسم یا نوعیت، دستیاب ٹیوب ویل یا نہری پانی کی مقدار اورحالت، مختلف فصلوں کی کثرت اور فصلوں کی ترتیب جیسے حالات کے مطابق کھاد ڈالنا بہت ضروری ہے۔کھادوں کا استعمال محکمہ زراعت کے مشورہ سے کیا جائے تاکہ کھادیں انتہائی مناسب مقدار میں استعمال کی جا سکیں اور سورج مکھی کی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکے۔ سورج مکھی کی آبپاشی کا دارومدار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔ اگر موسم گرم اور خشک ہو تو فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر موسم سرد اور مرطوب ہو تو کم آبپاشی کی ضرورت ہوگی۔ سورج مکھی کو پہلا پانی روئیدگی کے 20 دن بعد، دوسرا پانی پہلے پانی کے 20 دن بعد، تیسراپانی پھول نکلنے کے وقت ، چوتھا پانی بیج بنتے وقت اور پانچواں پانی دودھیا حالت میں لگایا جائے۔ اگر فصل ضرورت محسوس کرے تو مزید آبپاشی کریں تاکہ فصل متاثر نہ ہو ۔ وٹوں پر کاشتہ فصل کو عام طریقہ سے کاشتہ فصل کی نسبت زیادہ پانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر زیادہ گرمی ہو تو بہاریہ فصل کو پھول نکلتے وقت پانی کا وقفہ کم کر دینا چاہئے ورنہ عمل زیرگی متاثر ہوتا ہے اور پھول کا کچھ حصہ بیج بننے سے محروم رہ جاتا ہے۔ بیج بنتے وقت گرم موسم کی صورت میں وقفہ وقفہ سے ہلکا پانی دیں اور سوکا ہرگز نہ آنے دیں۔

سورج مکھی کے اگاؤ کے بعد جب فصل چار پتے نکال لے تو کمزور اور فالتو پودے اس طرح نکال دیں کہ پودوں کا باہمی فاصلہ آبپاش علاقوں میں تقریباً 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رہ جائے۔فصل کو گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیاں تلف کرنے، زمین کی سخت تہہ کو نرم کرنے اور زمین میں ہوا کی آمد و رفت قائم کرنے میں مدد ملتی ہے اور زمین میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ڈرل سے کاشتہ فصل کو پہلا پانی لگانے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ گوڈی ضرور کریں۔ جب پودے تقریباً ایک فٹ اونچے ہو جائیں تو ان کی جڑوں پر مٹی چڑھا دیں۔ اس سے نہ صرف گوڈی ہو جاتی ہے بلکہ جڑی بوٹیاں تلف اورپودے کے تنے کو سہارا بھی مل جاتا ہے ۔ مٹی چڑھانے کا عمل دوپہر کے بعدتیز دھوپ میں کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت گرمی کی وجہ سے پودے نرم ہونے کی وجہ سے کم ٹوٹتے ہیں۔

سورج مکھی کی فی ایکڑ پیداوار پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں زیادہ توجہ طلب امر جڑی بوٹیوں کی موجودگی ہے کیونکہ ان کی کثیر تعداد اور تیز روئیدگی فصل کے پودوں کو خوراک ، پانی اور روشنی سے محروم کردیتی ہے۔ بعض دفعہ تو کھیت میں فصل کے پودوں کی بجائے جڑی بوٹیاں ہی نظر آتی ہیں۔سورج مکھی کی فصل کے پہلے آٹھ ہفتے اس سلسلے میں کافی اہم ہیں۔ اس کے بعدفصل کاقدکاٹھ اتناہوجاتاہے کہ وہ خودہی جڑی بوٹیوں پرحاوی ہوجاتی ہے۔جڑی بوٹیاں گوڈی یاکیمیائی طریقہ سے ختم کی جاسکتی ہیں۔اگرافرادی قوت موجودہوتوگوڈی بہترین طریقہ ہے۔اگرگوڈی کی سہولت میسرنہ ہو تو جڑی بوٹی مار زہرکا سپرے محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔سورج مکھی کی کاشت سے کاشتکار اضافی آمدن کے حصول کو ممکن بناکر نہ صرف اپنی بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔سورج مکھی اور دیگر تیلدار اجناس کی کاشت کو فروغ دے کر ہم اپنی ملکی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں اور خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بھی بچائے جا سکتے ہیں۔

****

زرعی فیچرسروس

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More