اسلامی بینکنگ و فنانس میں حالیہ بڑھوتری اور پاکستان: زرعی یونیورسٹی

uaf_24_jan_2013 فیصل آباد24 جنوری 2013ء ( ) اسلامی بینکنگ و فنانس پوری دنیا بالخصوص مغربی ملکوں میں جس انداز سے مقبولیت اور پذیرائی حاصل کر رہی ہے اس کے نتیجے میں مستقبل کی بینکنگ سیکٹر کی زیادہ تر سرمایہ کاری اسی ذریعے سے ہونے لگے گی۔ ان باتوں کا اظہار آسٹریلیا کی لاٹروب یونیورسٹی ملبورن کے پروفیسر ڈاکٹر اسحاق بھٹی نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ ریسورس اکنامکس کے زیراہتمام ایک روزہ سیمینار برائے اسلامی بینکنگ و فنانس میں حالیہ بڑھوتری اور پاکستان کے لئے مثال سے بطور مہمان مقرر اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں ابتدائی طور پر اسلامک کونسل آف وکٹوریہ کے تحت میلبورن میں اسلامی بینکنگ و فنانس کا آغاز کیا گیا جس میں چھوٹی سطح پر لوگوں کو قرض حسنہ اور دیگر اسلامی مراعات کی پیشکش کی گئی جس کے نتیجے میں بینکوں کا کاروبار فروغ پذیر ہونے لگا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آسٹریلوی حکومت نے اس سلسلے کو سڈنی اور ایڈیلیڈ سمیت دیگر شہروں تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگ اسلامی بینکاری کی روح کے مطابق ادائیگیوں کے لئے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ نظام مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ پاکستان میں بینکنگ سیکٹر دنیا بھر کے دیگر سسٹم کے مقابلے میں زیادہ منافع حاصل کر رہا ہے اس لئے صارفین کے لئے مراعات کا وہ نظام یہاں دستیاب نہیں جو مغربی ممالک میں پیش کیا جار ہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا نظام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ہم اسلامی نظام معیشت کے بارے میں لوگوں کو شعور نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں پرمٹ پلاٹ اور قرضے حاصل کرنے والے مافیا نے مستحق لوگوں تک اسلامی بینکاری کے ثمرات منتقل نہیں ہونے دیئے۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ ریسورس اکنامکس ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہا کہ پاکستان میں 1981ء سے منافع اور نقصان میں شراکت کے اسلامی اصولوں کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 700 بینکوں کی برانچوں میں ابتدائی طور پر کاؤنٹر کھولنے کا حکم دیا تھا مگر صارفین کے لئے اس نظام کی افادیت تسلیم نہیں کرائی جا سکی جس کی وجہ سے یہاں کامیابی کی رفتار خاصی سست ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے محمد رفیق نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران اسلامی بینکاری نے خاصی کامیابی حاصل کی ہے کہ 2011ء میں پاکستان کے اندر اسلامی بینکاری کرنے والی بینک برانچوں کی تعداد 841تک محدود تھی جو اب بڑھ ایک ہزار ہوچکی ہے ۔ قبل ازیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اسلامی بینکاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اس طرز بینکاری کے ذخائر گزشتہ سال 568کے مقابلہ میں 741ارب روپے ہوچکے ہیں جبکہ جمع شدہ نقد رقم جو 2011ء میں 463ارب روپے تھی بڑھ کر 627ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آبادہینڈ آؤٹ
UAF, Agriculture in Pakistan
Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More