تِل کی کاشت: زرعی فیچر

January 24, 2013
 50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل
50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل

تِل پنجاب میں صدیوں سے بوئی جانے والی کم دورانیہ کی ایک اہم روغندار فصل ہے۔اس کے بیجوں میں 50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل اور تقریباً22فیصد سے زیادہ اچھی قسم کی پروٹین ہوتی ہے۔اسی لئے یہ انسانوں اور پالتو جانوروں کے لئے بہترین غذا ہے۔اس کی کھلی دودھ اور گوشت دینے والے جانوروں اور انڈے دینے والی مرغیوں کی بہترین خوراک ہے علاوہ ازیں تلوں کے بیج اور تل ادویات سازی میں استعمال ہوتے ہیں ۔تلوں کا تیل مساج،مارجرین،اعلیٰ قسم کے صابن،عطریات،کاربن پییر،ٹائپ رائیٹر کے ربن بنانے کے کام آرہاہے۔اسکی خصوصیات بہت حد تک زیتون کے تیل سے ملتی ہیں۔لہذا اس کو پانچ سے دس فیصد تک دوسرے خوردنی تیلوں میں ملا کر کھانے سے تیل کی کوالٹی بہتر ہوجاتی ہے۔مزید برآں تلوں کا استعمال بیکری مصنوعات میں بھی ہورہا ہے۔ انہیں خصوصیات کی وجہ سے تلوں کی ملکی اور بین الاقوامی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کے علاوہ تلوں کی کاشت پرخرچ کم اور رقبہ اور وقت کے حساب سے فی یونٹ آمدنی زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ فصل اب ایک بہترین نقد آور فصل کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔

سیم و تھور زدہ زمینوں کے علاوہ تل ہر قسم کی زمین پر کاشت کیے جاسکتے ہیں لیکن درمیانی میرا سے بھاری میرا زمین جس میں پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو تلوں کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔کاشت سے پہلے دوتین دفعہ ہل چلا کر اور سہاگہ دے کر زمین کو اچھی طرح تیار کرلیں زمین کی ہمواری کا خاص خیال رکھیں۔

پنجاب میں عام کاشت کیلئے سفید تلوں کی منظور شدہ اقسام تل89اورٹی ایس3ہیں جو بہترین صلاحیت کے ساتھ کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہیں۔

تل کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے اس کو 20جون سے 15جولائی تک کاشت کیا جائے۔تل 20جون سے پہلے کاشت کرنے سے بیماریوں اور کیڑوں کا حملہ زیادہ اور پچھیتے کاشت کرنے سے پیداوار کم ہوتی ہے۔جن علاقوں میں مسلسل بارش کا امکان ہو وہاں تلوں کو وٹوں پر کاشت کرکے پانی کے نکاس کا بہترانتظام کریں۔

اچھا اُگاؤ دینے والی زمین میں تندرست اور صاف ستھر ابیج ڈرل سے قطاروں میں کاشت کرنے کے لیے ایک سے ڈیڑھ کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔جڑ،تنے کی سڑاند اور اکھیڑا سے بچانے کے لیے کاشت سے پہلے بیچ کو پھپھو ندی کش زہر بحساب دو گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں۔جڑ بوٹی مارزہر زری ماہرین کے مشورے سے راؤنی کے بعد تروتر میں یا بوائی کے فوراً بعد سپرے کریں۔زمین کی زرخیزی کے حساب سے تل کی فصل میں کھادوں کا استعمال کریں عام طور پر23کلوگرام نائٹروجن اور23کلو گرام فاسفورس فی ایکٹر ڈالنی چاہیے۔

زمین کو اچھی طرح تیار اور ہموار کرکے تر وتر میں فصل کو بذریعہ سنگل رو ڈرل کاشت کریں قطاروں کا آپس میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں۔اگر ڈرل کاانتظام نہ ہوسکے تو چھ سے آٹھ کلوگرام باریک ریت یا مٹی بیج میں اچھی طرح ملا کر ایک دفعہ کھیت کے لمبے رخ اور دوسری طرف چوڑے رخ چھٹا دیں۔کاشت کے تقریباً ایک ہفتہ بعد تلوں کا اُگاؤ مکمل ہوجا تا ہے۔اگاؤ مکمل ہونے پر جب چار پتے بن جائیں تو کمزور پودے نکال کر پودوں کا آپس میں فاصلہ چار تا چھ انچ رکھیں۔اس طرح کھیت میں تقریباً ساٹھ ہزار فی ایکٹر پودے رہ جائیں گے۔

عام طور پرفصل دو سے تین پانی لگانے سے پک جاتی ہے پہلا پانی اگاؤ مکمل ہونے کے پندرہ سے بیس دن بعد دوسرا پانی پھول آنے پر اور تیسرا پانی ڈوڈیاں مکمل ہونے پر دیں۔دوسرا اور تیسرا پانی ہلکا دیں۔موسم برسات میں بارش کا فالتو پانی فصل سے فوراً نکالتے رہیں۔ کیونکہ پانی کھڑا رہنے کی صورت میں پودے مرنا شروع ہوجاتے ہیں یہ فصل تقریباًسو سے ایک سو بیس دنوں تک پک کے تیار ہوجاتی ہے جب پودوں سے نوے سے پچانوے فیصد پتے جھڑ جائیں اور پودوں کی نچلی 75% پھلیاں زردی مائل ہوجائیں تو پھلیوں کا منہ کھلنے سے پہلے پودے کاٹ لیں۔

****

ڈائریکٹوریٹ آف ایگریکلچر ل انفارمیشن، پنجاب

میڈ یا لائزان یونٹ ،ایگریکلچرل کمپلیکس شمس آباد مری روڈ، راولپنڈی

, Email:mlur2007@gmail.com Tel.051-9291198

نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر انفارمیشن، راولپنڈی 3
Agriculture in Pakistan

Copyright @ Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More