چنا کے ضرر رساں کیڑے، بیماریاں اور ان کا انسداد

January 22, 2013

چنا کو دوسری نشاستہ دار اجناس مثلاً گندم، چاول اور مکئی پر غذائی لحاظ سے فوقیت حاصل ہے
چنا کو دوسری نشاستہ دار اجناس مثلاً گندم، چاول اور مکئی پر غذائی لحاظ سے فوقیت حاصل ہے

چنا کی فصل خشک سالی کا کافی حد تک مقابلہ کر سکتی ہے اس لئے اس کو عام طور پر بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں چنے کے زیر کاشت کل رقبے کا تقریباً90 فیصد بارانی علاقوں پر مشتمل ہے۔ چنا کو دوسری نشاستہ دار اجناس مثلاً گندم، چاول اور مکئی پر غذائی لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔ اس میں پائے جانے والے لحمیات اور معدنی اجزاء گوشت اور انڈے سے کسی طرح کم نہیں جو ہمارے جسم کی نشونما کیلئے بے حد ضروری ہیں۔ چنا غذائیت کے اعتبار سے بہت اہم جنس اور گوشت کا نعم البدل ہے۔ چنا نہ صرف انسانی غذا کو متوازن بناتا ہے بلکہ یہ دودھ دینے والے اور بار برداری کیلئے استعمال ہونے والے جانوروں کیلئے بھی اہم غذا فراہم کرتا ہے۔

چنا کی فصل پر مختلف نقصان رساں کیڑے اور بیماریاں حملہ آور ہو کر پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ان کیڑوں اور بیماریوں کا بروقت تدارک کر کے فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنائیں۔

لشکری سنڈی ۔ یہ سنڈیاں پودوں کو ٹنڈ منڈ کر دیتی ہیں اور ایک کھیت سے دوسرے کھیت کی طرف یلغار کرتی ہیں۔ ان کے حملہ کو روکنے کیلئے حملہ شدہ کھیتوں کے گرد کھائیاں کھودیں اور ان کھائیوں میں زہر پاشی کریں یا پانی لگا کر مٹی کا تیل ڈال دیں تاکہ سنڈیاں دوسرے کھیتوں کی طرف منتقل نہ ہوں۔

ٹاڈکی سنڈی:۔ یہ سنڈیاں پھلیوں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور دانوں کو کھاتی رہتی ہے ان کے طبعی انسداد کیلئے کھیتوں میں ٹرائی کوگراما کارڈ لگائیں، چڑیاں سنڈیوں کو بڑے شوق سے کھاتی ہیں اس لئے کھیتوں میں ان کے بیٹھنے کیلئے درختوں یا ڈنڈوں سے رسیاں باند کر جگہ مہیا کریں۔

دیمک :۔ اس کا حملہ فصل کے اگنے سے کٹائی تک کسی بھی مرحلے پر ہو سکتا ہے۔ دیمک پودوں کی جڑوں پر حملہ کرتی ہے اور زمین میں سرنگیں بناتی ہے، حملہ شدہ پودے سوکھ جاتے ہیں بروقت آبپاشی سے اس کے حملہ کو کم کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ کھیتوں میں کچی گوبر کی کھاد کا استعمال نہ کریں۔

سست تیلا ۔ یہ پتوں کی نچلی سطح سے رس چوسنے کے ساتھ ساتھ اپنے جسم سے لیسدار مادہ خارج کرتا ہے جس سے پتوں پر کالی پھپھوندی اگ آتی ہے اور ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کیڑا وائرسی بیماریاں پھیلانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کیڑے کے بروقت تدارک کیلئے مفید کیڑوں کی حوصلہ افزائی کریں، جڑی بوٹیاں بروقت تلف کریں۔

چور کیڑا : ۔ چور کیڑے کی سنڈیاں دن کے وقت پودوں کے قریب چھپی رہتی ہیں اور رات کو چھوٹے چھوٹے پودوں کو کاٹ کر فصل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کے انسداد کیلئے ناقابل استعمال سبزیوں کو کاٹ کر شام کو ڈھیریوں کی شکل میں رکھیں اور صبح ان ڈھیریوں کے نیچے چھپی ہوئی سنڈیاں تلف کر دیں، فصل کی گوڈی کر کے پانی لگائیں۔ ضرر رساں کیڑوں کے کیمیائی تدارک کیلئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کی سفارش کردہ ایسی زہروں کا استعمال کریں جو نقصان دہ کیڑوں کے خلاف مؤثر اور کسان دوست کیڑوں کیلئے کم نقصان دہ ہوں۔

چنے کا مرجھاؤ یا سوکا:۔ فصل پر چنے کے مرجھاؤ یا سوکا کی بیماری کے حملہ سے پودے مرجھا کر سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن مرجھاؤ کی علامات پودوں پر دو مرحلوں

میں نمودار ہوتی ہیں۔ ابتدائی مرحلہ میں نوخیز اور چھوٹے پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں اور فصل چھدری پڑ جاتی ہے۔ دوسرے مرحلہ میں اس بیماری کا حملہ تب ہوتا ہے جب ٹاڈوں میں دانے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اس وقت اس مرض کی زد میں آنے سے پودوں کی نشوونما میں کمی آ جاتی ہے اور دانے بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ متاثرہ ٹاڈوں میں اگر دانے بن بھی جائیں تو جسامت میں چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ بعض اوقات زمین میں نمی کی مناسب مقدار نہ ہونے کی وجہ سے بھی چنے کی فصل مرجھانا شروع کر دیتی ہے۔ پھھوندی کی وجہ سے ہونے والا مرجھاؤ عموماً کھیت میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں دکھائی دیتا ہے جو رفتہ رفتہ پھیلتا جاتا ہے۔ پانی کی عارضی کمی کی وجہ سے ہونے والا مرجھاؤ پورے کھیت میں ہوتا ہے اور عموماً دوپہر کے وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ عارضی مرجھاؤ کے تدارک کیلئے کھیت کو پانی لگائیں۔ مستقل مرجھاؤ کے تدارک کیلئے بیماری کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں، جن آبپاش علاقوں میں چنے کا مرجھاؤ یا سوکا عام ہو رہا ہو وہاں اگر ممکن ہو تو فصل کی بوائی تاخیر سے کریں اس سے بیماری کا ابتدائی یا پہلا حملہ کم ہوتا ہے لیکن بیماری کے دوسرے مرحلے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر ممکن ہو تو بیماری کے پہلے مرحلہ پر حملہ شروع ہوتے ہی کھیت کو پانی لگائیں اس طریقہ سے ایک تو پودے کو وافر پانی میسر آ جاتا ہے دوسرے زمین کا درجہ حرارت بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں عوامل بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بیماری کے دوسرے مرحلے پر پانی لگانے سے درجہ حرارت کم ہو کر پھپھوندی کی نشوونما کیلئے موزوں ہوجاتا ہے جس سے بیماری کا حملہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا بیماری کے دوسرے حملے کی صورت میں پانی ہرگز نہ لگائیں۔

چنے کا جھلساؤ:۔ بیماری کی ابتدائی علامات خاکی بھورے رنگ کے دھبوں کی صورت میں پودے کے تمام حصوں (سوائے جڑوں کے) پر نمودار ہوتی ہیں۔ شروع میں پتوں پر دھبے چھوٹے سیاہ رنگ کے نقطوں کی صورت میں ہوتے ہیں جو بعد میں جسامت میں بڑے ہوجاتے ہیں اور ان میں ہم مرکز دائرے نظر آتے ہیں۔ ابتداء میں یہ بیماری چند پودوں پر دکھائی دیتی ہے لیکن بعد میں سارے کھیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کھیت آگ سے جھلس گیا ہو اسی بنا پر اس بیماری کو جھلساؤ کا نام دیا گیا ہے۔ دسمبر، جنوری میں پھپھوندی کے تخم ریزے کم درجہ حرارت کی وجہ سے روئیدگی حاصل نہیں کر پاتے لیکن زندہ رہتے ہیں۔ جنوری سے آخر مارچ تک اگر موسم خشک رہے تو بیماری کی علامات کی شدت میں کمی آ جاتی ہے لیکن اگر ان ایام میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہو جا ئے تو بیماری تیزی سے پھیل کر ساری فصل کو تباہ کر دیتی ہے۔ اگر فروری سے اپریل تک نمی 72 گھنٹے سے زیادہ عرصہ تک 80 فیصد سے زیادہ رہے تو بیماری کے حملہ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر کھیت میں پچھلے سال کی متاثرہ فصل کے بچے کھچے ٹکڑے موجود ہوں تو بیماری وبائی صورت اختیار کر لیتی ہے کیونکہ ان بارشوں سے فضا میں نمی کافی دنوں تک برقرار رہتی ہے جس سے بیماری کے تخم تیزی سے بڑھتے اور پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ چنے کے جھلساؤ کے تدارک کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں، فصل کیلئے بیج ایسے علاقوں سے حاصل کریں جہاں بیماری نہ ہو، فصل کی گہائی کے بعد چنے کے بھوسہ کو کھیت میں ذخیرہ نہ ہونے دیں۔ بیماری سے متاثرہ فصل کی باقیات کو جلا دیں یا گہرا ہل چلا کر زمین میں دبا دیں۔

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

میڈیا لائزان یونٹ، راولپنڈی

نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر انفارمیشن

051-9291198

mlur2007@gmail.com

Copyright @ Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More