چنے کی کاشت

تاریخ: 21جنوری 2013

 ۔پنجاب میں تقریباََ 23لاکھ 45ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے
۔پنجاب میں تقریباََ 23لاکھ 45ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے

چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے ۔پنجاب میں تقریباََ 23لاکھ 45ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے جو ہمارے ملک میں چنے کے کل رقبے کا تقریباََ 80فیصد ہے ۔ پنجاب میں چنے کا تقریباََ 92فیصد رقبہ بارانی علاقوں میں کاشت کیا جا تا ہے جس میں زیادہ تر تھل بشمول بھکر، خوشاب ، لیہ، میانوالی اور جھنگ کے اضلاع شامل ہیں۔ان اضلاع کے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر اسی فصل پر ہے۔

چنا غذائیت کے اعتبار سے بھی ایک اہم جنس اور گوشت کا نعم البدل ہے۔پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے یہ ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے اسے زمین میں داخل کرتا ہے جس سے زمین کی ذرخیزی بحال رہتی ہے۔ چنے زیادہ تر کم بارش والے بارانی علاقوں میں کاشت ہوتے ہیں۔جہاں چنے کی زیادہ تردیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں کیونکہ کابلی چنے کی پانی کی ضرورت دیسی چنے کی نسبت زیادہ ہے۔کابلی اقسام کی کھپت روز روز بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لیے مختلف ممالک مثلاََایران ، آسٹریلیا اور ترکی وغیرہ سے کابلی چنے کی درآمد کی جاتی ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے کابلی چنے کی مزید بہتر اقسام کی دریافت اور کابلی چنے کی ستمبر کاشتہ کماد میں اور دھان کے بعد کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں دیسی اور کابلی چنے کی دریافت اقسام اور پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر چنے کی اوسط پیداوار کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔چنے کی اقسام کی بہتری اور پیداواری ٹیکنالوجی پر مزید کام جاری ہے۔چنے کی کاشت کے لئے ریتلی ، ہلکی میرایا اوسط درجہ زرخیزی والی زمین کا انتخاب کریں۔کلراٹھی اور سیم زدہ زمین چنے کی کاشت کے لیے موزوں نہیں۔بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے محفوظ شدہ و ترمیں زمین کی تیاری کیے بغیر بوائی کریں تاکہ وتر ضائع نہ ہو ۔ البتہ بارانی علاقوں میں ریتلی میرازمین میں ایک مرتبہ ہل ضرورچلائیں۔دیسی چنے کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام بلکسر2000، پنجاب 2008،تھل 2006،ونہار 2000،بٹل 98،سی ایم 98، بھکر 2011اور کابلی چنے کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام سی ایم2008، نور2009اور نور91کا صحت مند بیج استعمال کریں۔ چنے کی کاشت سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر اور جراثیمی ٹیکہ ضرور لگائیں۔دیسی و کابلی چنے کی عام جسامت والے دانوں کی اقسام کا 30کلو گرام اور موٹے اقسام 35کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔چنے کی کاشت جہلم ، راولپنڈی، گجرات اور نارووال کے اضلاع میں 15اکتوبر تا10نومبر تک مکمل کریں۔ تھل کے علاقہ جات میں ماہ اکتوبر میں چنے کی کاشت مکمل کریں۔کاشت بذریعہ ڈرل یا پو ر کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30سینٹی میٹر(ایک فٹ)اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15سینٹی میٹر(6انچ) ہونا چاہیے۔اگر زمین کی زرخیزی زیادہ ہو تو قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45سینٹی میٹر (ڈیڑھ فٹ) رکھیں۔بارانی علاقے جہاں مناسب و تر موجود ہو وہاں ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔جن ریتلے بارانی علاقوں میں بوائی زمین کی تیاری کیے بغیر کی گئی ہو وہاں کھاد سیاڑوں کے ساتھ ڈرل کریں۔

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

میڈیا لائزان یونٹ، راولپنڈی

نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر انفارمیشن

051-9291198

mlur2007@gmail.com

Copyright @ Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More