ڈینگی بخار کے بارے میں ایک معلومات افزا مضمون

جنوری 18 – 2013

ڈینگی بخار
ڈینگی بخار

ڈینگی بخار جسکو طب کی اصطلاح میں Dengue hemorrhagic fever DHF کہتے ہیں۔ وائرس سے پیدا ہونے والی ایک خطرناک بیماری ہے۔ ڈینگی بخار کا سبب بننے والا وائرس کا نام Flavivirus ہے، جو وائرس کے flaviviridae خاندان سے تعلق رکھتاہے۔ ڈینگی وائرس سب سے پہلے فلپائن اور تھائی لینڈ میں پایا گیا تھا۔ ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا مادہ مچھر ایڈیزابجپٹی لاطینی امریکہ سے مصر منتقل ہوا تھا۔ڈینگی وائرس کی 1950 میں پہلی بار ایشائی ممالک میں تشخیص کی گئی تھی۔

ڈینگی وائرس 1970 سے قبل صرف 9 ممالک میں پایا جاتا تھا، 1995 کے بعد اس وائرس کی شدت میں تیزی اگئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیامیں ہر سال دو کروڑ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہورہے ہیں۔

دنیا بھر میں مچھروں کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ ان میں ایڈیزا یجپٹی (Aedes egypti )، اینوفلیز(Anopheles) اور کیولیکس(Culex) ہے۔ یہ تینوں اقسام کے مچھر ڈینگی وائرس، ہمیر یجک فیور اور ملیریا کا باعث ہے۔ ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا محصوص مادہ مچھر صاف پانی ، پانی سٹور کرنے والے ٹینک ، گملوں، نکاسی آب ، بارش کے پانی ، جھیل اور ساکن پانی میں انڈے دیتی ہے۔ ’’ ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بڑا صفائی پسند ہے۔ یہ خطرناک مچھر گندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارشوں کے صاف پانی ‘گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس‘ صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں اور گل دانوں، گملوں وغیرہ میں پرورش پاتے ہیں۔ یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔

ڈینگی وائرس پھیلانے والی مادہ مچھر 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتی۔ جسکی وجہ سے ان مچھروں کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے۔ تاہم ان مچھروں کے دئیے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں۔ اور اپنی نسل کی افزائش کیلئے بہترین موسم کا انتظار کرتے ہیں۔اگست سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں میں تیزی سے افزائش ہوتی ہے تاہم سرد موسم میں انکی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر کو اپنے انڈے دینے کے لئے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ مادہ مچھر پروٹین کی تلاش میں انڈے کے مقام سے 25 سے 30کلومیٹر دور پالتوں جانوروں، بھینسوں کے باڑوں میں جانوروں کو کاٹ کر اپنی غذااور پروٹین حاصل کرتی ہے۔ تاہم جانور نہ ملنے کی صورت میں مادہ مچھر انسان کو کاٹتی ہے۔جب مادہ مچھر انسان کو کاٹتی ہے تو اپنی ڈنگ سے 8سے 10سیکنڈ کیلئے اس جگہ کو سن کر دیتی ہے اور اس دوران اس کے لعاب دہن میں وائرس کو منتقل کردیتی ہے جو انسانی جسم میں 2 سے 7 دن تک کی سائیکل مکمل کر لیتا ہے۔

ڈینگی بڑا خطرناک بخار ہے۔ اس کے مابعد اثرات بھی ہیں۔ اس بخار کا علم 3 سے 7 دن کے اندر ہوتا ہے۔ عام نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سردرد، پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ جکڑ کر انسان کو بے بس کردیتا ہے۔ جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان نمودار ہوتے ہیں۔ نوعیت شدید ہوجائے تو ناک اور منہ سے خون بھی بہنا شروع ہوجاتا ہے۔

ڈینگی وائرس بخار کی علامات شروع میں اس طرح ہوتی ہیں۔

1. تیز بخار

2. سرمیں درد

3. انکھوں کے ڈیلے میں شدید درد

4. تمام ہڈیوں اور گوشت یہاں تک کہ جوڑ جوڑ میں درد۔

بیماری کی شدید حالت میں مریض شاک میں جاسکتاہے۔ اور بلڈ پریشر کم ہوسکتاہے۔ جسم کے اندرونی حصوں پر باریک سرخ دانے ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے خون میں موجودPlatelets, کی تعداد کم ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے جسم کے کئی حصوں میں خون بہہ سکتاہے اور جلد کے نیچے خون جم جاتاہے۔ جس سے یہ سرخ دھبے اور نشانات پڑجاتے ہیں۔ عام طور پر یہ بیماری چھ یا سات دن تک رہتی ہے اور کئی دفعہ ایک جان لیوا بیماری کی شکل یعنی Dengue shock Syndrome اختیار کرلیتی ہے۔بیماری کی تشخیص PCR کے ذریعے 48 گھنٹے میں ہوجاتی ہے۔

علاج :

ڈینگی وائرس خونی بخار یا Dengue hemorrhagic fever کی کوئی ویکسین ابھی تک نہیں بن سکی ہے۔ اسکا علاج ایک انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جاسکتاہے۔

1. مریض کو Supportive Therapyدی جاتی ہے۔

2. پانی اور دوسرے مشروبات کازیادہ سے زیادہ استعمال

3. اگر مریض زیادہ کھاپی نہ سکے تو پھر Drip لگانی چاہیئے۔

4. اگر خون میں platelets اس قدر کم ہوجائیں جس سے خون جاری ہونے کا خدشہ ہو تو اس صورت میں Platelets کی Drip لگانا اشد ضروری ہے۔

5. اس موسم میں بخار کی حالت میں اسپرین یا ڈسپرین ہرگز استعمال نہ کریں۔پیراسٹامول استعمال کیا جاسکتا ہے۔

6.مضمون نگار کو موصول شدہ ایک SMS کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک ریسرچ نے ثابت کیا ہے۔ کہ سیب کے جوس میں لیموں کے چند قطرے ڈالنے سے جسم میں platelets کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتاہے۔ لہذا مریض کو سیب کے جوس میں لیموں کے چند قطرے ڈال کر پلانا چاہئے۔

احتیاطی تدابیر

سیلاب اور بارشوں کیوجہ سے اس سال ڈینگی وائرس کا حملہ شدید ہوسکتاہے۔ڈینگی فیور سے بچاؤ کی نہ تو کوئی دوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکہ ہے۔ ڈینگی بخار کو صرف حفاظتی امور سے روکا جاسکتا ہے۔ اس مرض کو مکمل کنٹرول کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ پوری آبادی کو شعور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں کہ مچھروں کی افزائش نہ ہو اور وہ خود مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہیں۔کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور این جی اوز کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ علاقے میں نکل کر عوام کو اس مرض کے بارے میں بتائیں ۔

ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔

*پانی کی ٹنکی ، بالٹی ، ڈرم، کنسترجن میں صاف پانی ہے اور پھولدان، گملے کے نیچے رکھے ہوئے برتن، بوتلوں میں رکھے گئے پودوں وغیرہ کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مچھر ان میں پرورش نہ پا سکیں۔

*مچھروں سے بچاؤ کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگوائیں۔

* سوتے وقت دوا لگی مچھر دانی کا استعمال کریں۔

*طلوع اور غروب آفتاب کے اوقات میں جسم کے کھلے حصوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں اور مچھر بھگاؤ لوشن (Repellent)لگائیں۔

*گھروں میں مچھر مار سپرے یا مچھر بھگانے کے لئے کوائل کا استعمال بھی بے حد مفید ہے۔

(تحریر کنندہ: ڈاکٹر دین محمد مہمند ، ڈاکٹر کامران فرید، ڈاکٹر اقبال خٹک، ڈاکٹر غفران اللہ لائیوسٹاک ریسرچ اینڈڈیویلپمنٹ خیبر پختونخواہ پشاور)

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More