سنکھیا کے نر تولید ی نظام پر مضر اثرات (Arsenic )

جنوری 18 – 2013

کارخانوں کا اضافہ، کیڑے مار ادویات کا استعمال اور زمیں کا کٹاؤ
کارخانوں کا اضافہ، کیڑے مار ادویات کا استعمال اور زمیں کا کٹاؤ

موجودہ دور میں انسان نے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے ذرائع پیدا کر لیے ہیں جو ضروریات کو پور ا کرنے کے ساتھ انسانی زندگی کے لئے مضر ثابت ہورہے ہیں۔ ان ذرائع میں کارخانوں کا اضافہ، کیڑے مار ادویات کا استعمال اور زمیں کا کٹاؤ شامل ہے۔ کارخانوں کے اضافہ کی وجہ سے ان میں سے ایسی زہریلی گیسیں اور بھاری دھاتیںArsenic, Mercury and Lead پیدا ہو رہی ہیں جو ہمارے ماحول کو مسلسل زہر آلود کر رہی ہیں اس کے علاوہ اوزون لئیر جو حیاتیاتی زندگی کو سورج کی تیز اور زہریلی شعاعوں سے بچاتی ہے یہ گیسیں اور بھاری دھاتیں اوزون لئیرمیں نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان گنت بیماریوں مثلاََکینسر ، دمہ اور نر تولید ی نظام میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔

سنکھیا( Arsenic) جو کہ علم کیمیاء میں As کی علامت اور ایٹمی نمبر33 کے نام سے جا نا جاتاہے۔یہ عام طور پر کالے اور پیلے رنگ کی تابکاری دھات ہے۔ جو کثرت سے انسان اور جانوروں کی غذا اور پانی میں شامل ہو رہاہے۔ ایک ہندوستانی سائنسدان مکھر جی نے 2006 ؁ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق سنکھیا (Arsenic) بنگلہ دیش چائینہ ، نیپال ، انڈیا ، منگلولیا ، کمبوڈیا اور افغانستان میں ایک خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے کیونکہ یہ مسلسل ٹیوب ویل میں پانی کے ساتھ شامل ہوتا ہے بنگلہ دیش میں ٹیوب ویل کے پانی استعمال کرنے کی وجہ سے 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اگست 2010 ؁ء چین میں جائیں ومی پن نا می سائنسدان نے یہ دریافت کیا کہ (Arsenic) انسان کے Semen کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مارچ2010 ؁ء میں بالم کمارنے معلوم کیا کہ Arsenic انسان میں جگر کے کینسر کے کاباعث بنتاہے۔

Aresnic انسانوں اور جانوروں کی خوراک میں شامل ہوتاہے۔ تاہم (Aresnic) کے خصیوں پر مضر اثرات مندرجہ ذیل تجربات سے واضح ہوتے ہیں۔

حامد رضا نے مئی 2012 ؁ء ایران میں دریافت کیا کہ Arsenic چوہوں کو 8 ہفتوں تک کھلانے سے سپرم کی تعداد ، حرکت اور شکل میں بگاڑ پیداہوتاہے جو vit E کے کھلانے سے زائل ہو جاتاہے۔

دوسرا تجربہ مارکینونے نائجیریا میں جنوری 2010 ؁ء میں کیا جس میں Arsenic کو 30 دن تک کھلانے سے یہ پتا چلا کہ خصیوں کا وزن ، سپرم کی تعداد اور ہارمونز جیسے FSH LH , اورTestosterone کم ہوتے ہیں ۔

اور یہ ثابت کیا ہے ۔ کہ ادرک کے استعمال سے Arsenic کا اثر زائل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ ادرک میں وٹامن ( C) اور (E) ہوتے ہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ (Arsenic) خشکی میں نقصان پہنچانے کے علاوہ آبی جانوروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ 2008 ؁ء میں جاپان میں فرٹزمی ای میلنو نامی سائنسدان سے یہ بات ثابت کیا ہے۔ کہ سنکیھا (Arsenic) مچھلیوں میں سپرم پیدا کرنے کا عمل روک دیتاہے۔

پاکستان میں آئی ۔اے طور نے 28 نومبر2008 ؁ء میں پنجاب کے مختلف جگہوں سے پانی میں (Arsenic) کا لیول معلوم کیا جو کہ ضلع مظفرگڑھ میں (WHO) کی تعین کردہ مقدار 10ug/L سے زیادہ ہے۔ مندرجہ بالا تجربات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ Arsenic جانوروں میں اہم بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتا ہے لہذا پاکستان میں جانوروں اور انسانوں میں (Arsenic ) کے مضر اثرات کے حوالے سے کام کرنا ضروری ہے ۔

Arsenic کی پیداوار کے ذرائع:۔

کیڑے مار ادویات :۔فصلوں او ر پھلوں کو کیڑوں سے بچانے کیلئے کثرت سے ادویات کاسپرے کیا جاتاہے۔ جن کے اند ر Arsenic شامل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کو ذخیرہ کرنے کے لئے بھیArsenic کا استعمال کیا جاتاہے۔ وہ کارخانے جو کہ پتھر کے کوئلے سے چلتے ہیں مسلسل فضا میں Arsenic خارج کرتے ہیں جو کہ سانس کے نظام کو متاثر کرتاہے۔ اس کے علاوہ Arsenic پانی میں شامل ہو کر مسلسل ہمارے جسم کے اندر داخل ہوتاہے۔

Arsenic سنکھیا کی بیماری پھیلانے کا طرزعمل:۔

Arsenic جسم کے اند ر داخل ہونے کے بعد ہمارے مدافعتی نظام (Antioxidant) کو متاثر کرتاہے ۔ جس کی وجہ سے جسم کے اندر Free redical کی تعداد بڑھ جا تی ہے Free redicalصحت مند اعضاء سے (Electron) چوری کرتے ہیں اور اعضاء میں بگاڑ پیداہونے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتاہے۔

فر ی ریڈیکل نر کے تولیدی نظام میں (Testis) کے اندر سپرم میں Mitochadria کے Enzymes کو نقصان پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے سپرم کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے اس کے علاوہ وہ خلیے جن سے سپرم بنتاہے ان کو ختم کرتاہے۔ جس کی وجہ سے خلیوں کا سائز کم ہوجاتاہے۔

ان بیماریوں کے علاوہ Arsenic جگر کا کینسر ، دمہ، شوگرکا بڑھ جانا، سٹاک فٹ ڈیزیز اور دل کی بہت سی بیماریوں پھیلاتاہے

Arsenic کا اثر ات کو زائلکرنے کے طریقے :۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پانی میں Arsenic کی ایک مفید حد مقر ر کی ہے۔ جو 10ug/L ہے ۔ اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو بیماری کا سبب بنتاہے۔ لہذا وہ پانی جس میں Arsenicمقدار زیادہ ہو وہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے پھل سبزیاں اچھی طرح دھوکر استعمال کرنی چاہیے۔

اپنی خوراک میں وٹامن ای، سی اور ادراک کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے یہ تینوں اجزاء Arsenic کے اثر کو زائل کرتے ہیں۔

فصلوں پر کیڑے مار ادویات جن میںArsenic شامل ہو سپرے نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان کے تمام اضلاع جہاں کوئلے سے چلنے والے کا رخانوں ہوں وہاں پانی میںArsenic کا لیول ضرور چیک کر نا چاہیے۔

پی ایچ ڈی سکالر : محمد زبیر ،ڈاکٹر مقبول احمد ایسوسی ایٹ پروفیسرڈپیارٹمنٹ آف تھیر یو جینالوجی فیکلٹی آف وٹرنری سائنیسز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More