گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان

گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز
گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز

16جنوری 2013ء

گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز میں سابقہ ڈین آف فیکلٹی ایگر یکلچر کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام
فنڈز کی کمی کے باوجود ہم گومل یونیورسٹی کو انٹرنیشنل معیار پر لانے میں کامیاب رہے ہیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی
گومل کالج آف ویٹرنری سائنسزمستقبل میں صوبہ خیبر پختونخواہ کی پہلی ویٹرنری یونیورسٹی بن کر ابھرے گی۔پروفیسر ڈاکٹرسید میر خان
یونیورسٹی کی ترقی میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائینگے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید خٹک

آج(15جنوری) گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز گومل یونیورسٹی میں ڈین آف فیکلٹی ایگریکلچرپروفیسر ڈاکٹر سید میر خان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتما م پرنسپل گومل کالج آف ویٹر نری سائنسز ڈاکٹر امان اللہ اختر کے علاوہ کالج کے تما م ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف نے کیا۔تقریب کے مہمان گرامی میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، نئے ڈین آف فیکلٹی ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹرسعید خٹک نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امان اللہ اخترنے پروفیسر ڈاکٹر سید میر خان کی خدمات کو سراہاتے ہوئے انکے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیاجبکہ سابقہ ڈین پروفیسر ڈاکٹر سید میر خان نے اپنے الوداعی خطاب میں کالج کے تمام سٹاف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم محنت اور لگن سے جامع گومل کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں اور اگر اسکے لیے میری خدمات درکار ہوئی تو میں ہر وقت تیار ہوں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز اپنی موجودہ قیادت کی سرپرستی میں انشاء اللہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی پہلی ویٹرنری یونیورسٹی بننے کا اعزاز ضرور حاصل کریگی۔نئے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سعید خٹک نے اس امید کا اظہا ر کیا کہ ویٹرنری کالج سے انکا تعلق انکے پیش رو ڈاکٹر سید میر خان جیسا رہے گا اور وہ فیکلٹی آف ایگریکلچر اور ویٹر نری کالج کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کرینگے اور اسکے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائینگے ۔تقریب کے آخر میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے ڈاکٹر سید میر خان کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر شپ کے دوران فنڈز کی کمی کے باوجود ہم یونیورسٹی کو انٹرنیشنل معیار پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں اگر ہمیں فنڈز کی کمی کا سامنا نہ ہوتا تو آج گومل یونیورسٹی پاکستان کی سب سے بہترین یونیورسٹی بن سکتی تھی مگرپھر بھی فنڈز کی کمی کے باوجو د ہمارے حوصلے بلند ہیں اورجامع گومل کی ترقی کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کرتے رہینگے۔

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More