دیہات ، آبپاشی ،زراعت اور لائیو سٹاک

15
جنوری 2013

دیہات ، آبپاشی ،زراعت اور لائیو سٹاک
دیہات ، آبپاشی ،زراعت اور لائیو سٹاک

پا کستان کی جغرافیائی پوزیشن میں دیہات ، زراعت ، آبپاشی اور لائیو سٹاک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کیونکہ%70-80 کم آمدن کی دیہی آبادی کاروز گار انہی شعبہ جات سے ملاجڑا ہے۔جمہوری نظام حکومت میں M.N.A, M.P.A اورSenators انہی علاقوں سے منتخب ہو کر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں۔جو معاشرتی، معاشی ترقی کے منصوبے بنا کر حکومتی پالیسی مرتب کرتے ہیں۔اور عوام ترقی کے ان اقدامات سے خوشحالی اور دلچسپی کا رحجان بڑھاتے ہیں۔

قومی اخبار پاکستان ٹو ڈے کے 20 اکتوبر 2010 کے مطابق نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انڈسٹریز اور پروڈکشن نے پروگرام دیا ہے کہ دیگر امور کے علاوہ ملکی ضرورت پوری کرنے کیلئے چھوٹی شوگر ملزملک میں تیار کر کے قائم کرنے کا طے کیا ہے یہ خبر دیہی علاقوں کے چھوٹے زمینداروں کے لیے خوش کن ہے۔جس کے لیے کاشتکاری نظام میں تبدیلی لانا ہو گی اور کامیابی کے لیے Sugarcane Areas ملکی چھوٹی شوگر ملزز کے مطابق گنے کی پیداوار کھیت سے کھیت ملا بلاک کی صورت میں قائم کرنے ہوں گے ۔ یہ پہلا قدم جو چھوٹی شوگر ملزز کی اور شوگر کین ایریا میں گنا کی پیداوار اور چینی کی پروڈکشن کی نسبت مقرر کرنا ہو گی تا کہ دونوں پراجیکٹس کو نقصان نہ ہو ۔ شوگر مل کی تمام وقت کامیابی کا انحصار مکمل سیزن کے لیے شوگر کین بلاک کو گنا پیدا کرنا مشروط ہو گا تا کہ توازن برقرار رہے ۔ یہ پروگرام شروع ہونے سے گنا کی کاشت میں دلچسپی اور شعور بیدار ہو گا اور پروڈکشن کا گراف بھی بڑھ جائے گا۔یہ دیہی علاقوں میں پروڈکشن کا بہترین ، کامیاب اور مضبوط منصوبہ ہے۔

گنا چھوٹی شوگر ملز تک کم خرچ (پہنچ) مال براداری پر ہو جائے گا۔ گنا کسی حالت میں تلف نہیں کرنا پڑے گا ۔ فارمرز کو قیمت عدم ادائیگی جیسی مشکلات سے نجات ملے گی۔شوگر پروڈکشن کے لیے تمام وسائل یک جا بلکہ Farmers Door Steps پر مہیا ہوں گے ۔ گنے کی پیدا وار اور فالتو سبزچارہ (آگ اور جڑوں کا اضافی چارہ) اور Silage کی صورت میں اور شیرہ Molasses اور گودا(Bagas۔بوگیس) (جو پہلے کاشت کاروں کو نہیں ملتا تھا) سے جانوروں کی فربہ کرنے کے لیے مفت خوراک اور وسائل فراہم کرے گا جبکہ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ بہادر نگر سے راشن برائے ڈیری اور فربہ کرنے مہیا / فروخت کر رہا ہے۔ ان علاقوں کے مربوط پروگرام لائیو سٹاک پروڈکشن ڈیری فارمنگ جانوروں کو فربہ برائے، فراہمی ہلال گوشت کے یونٹ قائم ہونگے ۔ علاوہ ازیں انہی بلاک ایریا میں پولٹری پروڈکشن برائے انڈہ اور برائیلر (مرغی کا گوشت) ۔ مچھلی کے فارمرز برائے White Meatکی طرف رحجان بڑھے گا۔ اس طرح کی منصوبی بندی سے ملک کی بیشتر آبادی صحیح سمت مصروف ہو گی ۔ تمام پیسے از خود لازم و ملزوم ہو جائیں گے ۔ اس پروگرام کو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے تحت کرنا ایک اہم ضرورت ہو گی۔ تا کہ MPA ، MNA اورSenators بھی اپنے ڈویلپمنٹ فنڈز انہی شعبہ جات پر خرچ کریں بلکہ تمام نظام کو کوآپریٹو Cooperative بنکوں اور دیگر بنکوں کی SME سکیموں کی سرپرستی کرنا، مربوط کر دینے سے انقلابی دور کے انقلاب کا آغاز ہو گا۔دیگر ممالک میں یہ تجربہ جات کامیابی سے چل رہے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری محکمہ جات کے متعلقہ منصوبے بھی ان کے مطابق مرتب کریں گے ۔ہر مرد اور عورت ان منصوبہ جات سے بلواسطہ اور بلا واسطہ Direct & Indirect مربوط ہو گا ۔ عوام میں سکون ، رزق کی فراہمی اور خوشی ملے گی اور یقیناایک تسلی بخش جائنٹ پروفیشن کے آغاز کا دور ہو گا جو ملک کو غربت سے نکالے گا۔دیگر ممالک نے یہ تجربات عملی کامیابی سے پورے کئے ہیں ۔ میرے اقوام متحدہ کے تعلیماتی کورس(MANCO)کے دوران واقع تھائی لینڈ میں ہوا جس میں Southeast & Pacific Region ممالک متعلقہ پروفیشن ( Livestock )کے اہلکار شامل ہوئے تھے۔
دورانِ کورس ایک وزِٹ بھی کروایا گیا جس میں شوگر کین ایریا بلاک بھی دیکھا جیسے پاکستان میں آئندہ چھوٹی شوگر ملز کے ساتھ شوگر کین ایریا Proposeکیا جا رہا ہے ۔تفصیل کے لیے بیان کیا جا رہا ہے:۔

Milk Collection, Processing & Bottlingسینٹر قائم کیا ہوا دیکھاتھا جس کو ایک عورت کو ہمہ وقت مشغول تھی جو دودھ کوبوتلوں میں بھر رہی تھی۔ اس سنٹر کا تمام کام 4 مرحلوں میں کسی دقت کے بغیر خود چلا رہی تھی ۔ ڈیری فارم کے لوگ دودھ اس سنٹر پر پہنچا رہے تھے ۔ جن کو رقم ادا کی جاتی ہے ، لوگ مطمئن ہیں۔

ایک بیل (Fattening Project)کے منصوبے کے تحت فربہ کیا ہوا دیکھا ۔ جس کے متعلق بتایا گیا ایسے بیل فربہ ہونے کے بعد محکمہ یا ادارہ وزن کے مطابق خرید کر لیتا ہے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی عمر کے بچھڑے / بیل بھی یہ ان کوان کے مطابق قیمت پر دئیے جاتے ہیں ۔ تا کہ عورت یا مرد گھر پر یا فارم کی صورت میں فربہ کر سکیں ۔

ایک پرائمری سکول میں بھی دکھایا گیا جنہیں Recess انٹر وَل (آدھی چھٹی) کے دوران بچوں کو دودھ کا گلا س دیا گیا جبکہ ہمیں کو کونٹ کا پانی پینے کو دیا ۔ بتایا گیا کہ بچوں کو دودھ پلانے کو لوکل ڈیری فارم سکیم سے دیا جا رہا ہے ۔ ڈیری فارم نظر آ رہا تھا۔

ایک دلچسپTalk پاکستان میں مجھے بھی پیش آئی کہ میں ایک ملائیشیا کے
Animal Nutrition ایکسپرٹ کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ اورفارم بہادرنگر ضلع اوکاڑہ جا نے کا اتفاق ہوا ، جوں ہی ہم لاہور کی حدود سے باہر ملتان روڈ پر نکلے تو ایک دم مجھے پوچھا کہ سڑک کے ارد گرد گنے کے کھیت ہیں جبکہ جانور بھی ۔پاکستان لائیو سٹاک ملک ہے اور گنا بھی سڑک کے ساتھ ساتھ اچھا خاصا کاشت کیا گیا ہے۔ پاکستان ان دو نعمتوں سے مستفید ہے ۔ جس پر Professional Discussion بہادرنگر ریسٹ ہاؤس میں ہوئی تو گنا کاٹھا یا پونا جو بھی میسر ہو باریک کاٹ کر %1 یوریا کی آمیزش سبز چارہ یا Silageخمیر بنا کر جانور پالنے برائے ڈیری پروڈکٹ اور فربہ گوشت Beef کی فراہمی ، اندرون اور بیرون ملک فروخت کر سکتے ہیں تا کہ اپنے اصل مقام پر پہنچایا جا سکے۔ گنے کی فصل اور دیگر وسائل کو یک جا کر کے Livestock Country اعتماد سے اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے ۔ایک اور اطلاع کے مطابق پاکستان ، تھائی لینڈ کو ہلال بیف فربہ جانور سے حاصل شدہ سپلائی کرتا رہا ہے ۔
جہاں ہم چینی 70/100 روپے کلو برداشت کر رہے ہیں وہاں گنے کی Nutrition Value پر جانوروں کی فربہ کرنے ڈیری جیسے کام ان ہی علاقوں میں شروع کر سکتے ہیں ۔ گنا کی فصل سے چینی کی پیداوار میں انشاء اللہ کمی نہیں ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ نئے وسائل پیدا کر دے گا اور چھوٹے زمینداروں ، مزارع اور ہاری وضع داری قائم رکھنے کے لیے جانور ضرور پالیں گے ۔ چاہے چارہ ، چینی کی فصل چوکندر سے ہی کیوں حاصل نہ کرنی پڑے۔

ایک اور خبر کے مطابق متاثرین سیلاب نے 10لاکھ کے جانور آدھی قیمت پر فروخت کر دئیے یہ کوئی نہیں بات بس ہر مشکل وقت شادی ، بیاہ اور اب سیلاب جیسی مجبوری میں یہ لوگ جانور بیچنے کے عادی ہیں ، زمین فروخت نہیں کرتے بلکہ جانور سمگلنگ یا فروخت کا کاروبار سینکڑوں سالوں سے جانور براستہ پاکستان، وسطی ایشیاء جاتے ہیں لیکن یہ اربوں روپے کا کاروبار ہے ۔ نقصان اللہ نہ کرے ، بھی برداشت کرنا پڑتا ہے تاہم ترقیاتی منصوبہ جات سے چینی بھی کم قیمت پردستیاب ہو گی اور جانور بھی پلتے رہیں گے۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈویلفیئر ادارہ نے ایک لسٹ متاثرین اونٹ ریس کے بچوں ، شائع کی ، وہ معاوضہ وصول کر لیں ۔ یہ خبر اس لئے لکھ رہا ہوں کہ غربت کو حیوانی وسائل سے پورا کیا گیا ہے ۔یہ سب لوگ جنوبی پنجاب سے ہیں ۔

ضلع جھنگ کے نامہ نگار علی انجم کی رپورٹ کے مطابق موضع ملکانہ کے رہائشی ساٹھ سالہ بزرگ
محمد چراغ نے 4 ہارس پاور کے ٹیوب ویل کی بجلی ، ڈیزل یا شمسی توانائی کے بغیر ایک بیل سے آسانی سے چلانے کا کامیاب تجربہ کیا جبکہ پانی کی مقدار بھی زیادہ تھی۔ تمام وسائل، آلات مقامی سطح پر حاصل کئے گئے یا مستعار لیے۔ رپورٹ کے مطابق 6-5 ہارس پاور کے ٹیوب ویل صرف ایک بیل کی پاور یا ایک اونٹ سے آسانی سے چلایا جا سکتا ہے اور 25 ایکڑ کا رقبہ سیراب ہو سکتا ہے ۔ اس خبر نے مجھے مجبور کیا کہ مضمون کے سرِ فہرست میں آبپاشی بھی لکھوں جو ذراعت کی روحِ رواں ہے ۔اس مقصد کے لئے اس لکڑی کا فریم اور ہاوسٹر کی گراریاں لوکل وسائل سے حاصل کیں ۔محمد چراغ نے حکومت سے سرپرستی ، امداد کی اپیل کی تھی ، یہ منصوبہ چلایا جائے جس سے بجلی کی بچت اور کاشتکاروں کو فصل کے لیے پانی کی دستیابی جیسی مشکلات سے نجات ملے گی۔ کیا ہم بیل یا اونٹ پر انحصار اب نہیں کر سکتے ، جس سے ہم صدیوں پہلے کھراس(پتھروں کے باٹ) سے آتا پیسنے اور ہل چلانے کا کام لیتے رہے ہیں ۔یہ Revertion نہیں یا اکنامکس کا تقاضہ ہے۔تاکہ اللہ کے دیگر وسائل پرحضرت انسان غور کرے ۔ تا کہ پانی برائے انسانی ، حیوانی اورکاشتکاری کے لیے کم وسائل پرمہیا ہو۔یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا جب تک دنیا آباد ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان اور اس کی عوام کو بہتر منصوبہ بندی کرنے اور اس کو چلانے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!
Road Map برائے سمال شوگر ملز ، انسٹا لیشن،دیگر کوائف کے ساتھ لف ھذا ہے ۔

ڈاکٹر محمد انور

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More