ہفتہ رفتہ: روئی برآمدات میں 3.5ارب ڈالر کمی کا امکان

  پير 14 جنوری 2013

رواں سال کے لیے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس کے لیے 16بلین ڈالر کا حدف مقرر کیا گیاتھا جو اب تقریبا ناممکن ہے۔
رواں سال کے لیے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس کے لیے 16بلین ڈالر کا حدف مقرر کیا گیاتھا جو اب تقریبا ناممکن ہے۔

کراچی: امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے رواں سال دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے متعلق رپورٹ کے اجرا اور پاکستان میں گیس وبجلی کے جاری بحران سے ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی کی خریداری سرگرمیوں میں کمی نے گزشتہ ہفتے بھی کاٹن مارکیٹس کی سرگرمیوں کو مفلوج رکھا اورکاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔

اس طرح سے مسلسل تیسرے ہفتے بھی روئی کی تجارتی سرگرمیوں میں ٹھیرائو کا عنصر نمایاں رہا، کاٹن سیکٹر کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیکسٹائل سیکٹر کو بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی یقینی ہونے اورمتعددکاٹن زون میں اعلی معیار کی پھٹی کی آمد غیر معمولی طور پرکم ہونے سے توقع ہے کہ روئی کی رسد کی نسبت طلب بڑھ جائے گی جو قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق سال2012-13کے دنیا بھرمیں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس 81.72ملین بیلز ہوں گے ۔

جو کہ پچھلے ماہ کے مقابلے میں2.08ملین بیلز زائد ہوں گے۔ مذکورہ رپورٹ میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس میں ساتھ ساتھ دنیا بھر میں روئی کی پیداوار بھی پچھلے ماہ کے مقابلے میں مزید 1.93ملین بیلز اضافے کے ساتھ 118.83ملین بیلز بتائی گئی ہیں جس کے بعد نیویارک کاٹن ایکسچینج میں ہفتے کے آخری کاروباری روز مندی کا رجحان سامنے آگیا۔ امریکی ادارہ برائے زراعت کی جانب سے جاری ہونیو الی ایک دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر بھارتی کاٹن ایکسپورٹ میں بھی غیر معمولی کمی سامنے آئی گی رپورٹ کے مطابق رواں سال بھارتی کاٹن ایکسپورٹس پچھلے سال کی 14.7ملین بیلز کے مقابلے میں 5.7ملین بیلز رہنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت میں اپنی کاٹن ایکسپورٹس بہتر بنانے کے لیے پاکستان برآمد ہونے والی روئی کی مدت ڈلیوری میں 30روز کی توسیع کا اعلان کیا ہے جس سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک بار پھر بھارتی روئی کی آمد کے امکانات بڑھ سکتے ہیں تاہم یہ سہولت ان بھارتی برآمدکنندگان کو ہوگی جو پہلے سے ڈی جی ایف ٹی بھارت سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرچکے ہوں گے۔ احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر خاص طور پر پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو بجلی اور گیس کی غیر معمولی لوڈ شیڈنگ کے باعث پاکستان کی کاٹن برآمدات میں3.50بلین ڈالر کمی کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے لیے پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس کے لیے 16بلین ڈالر کا حدف مقرر کیا گیاتھا جو اب تقریبا ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث صرف کرسمس کے موقع پر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز 1.5بلین ڈالر کے آرڈرز پورے نہیں کرسکیں انہوں نے بتایا کہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہونے والے ٹیکسٹائل میلے سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملزمالکان کو بڑے پیمانے پر برآمدی آرڈرملنے کی توقع ہے تاہم ان کی شپمنٹ کا انحصار بجلی اور گیس کی فراہمی پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک طویل عرصہ بعد چائنا نے اپنے ریزروز اسٹاکس میں سے روئی کی فروخت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چائنا کی جانب سے جاری ہونے والی پالیسی کے مطابق بیرون ملک سے 100ٹن روئی درآمد کرنیوالی ٹیکسٹائل ملز کو300ٹن کاٹن ریزروز سے خریدنے کا حق حاصل ہوگا تاہم اس کی مقدار اس ٹیکسٹائل مل کی  دو ماہ کی روئی کی کھپت سے زیادہ نہیں ہوگی جبکہ ریزروز سے فروخت ہونیوالی روئی کی کم از قمیت 19ہزاریوآن فی ٹن ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 6ہزر100روپے فی من تک مستحکم رہیں جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضرڈلیوری روئی کے سودے0.20سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 83.35 سینٹ فی پائونڈ ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 0.57 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 75.62 سینٹ فی پائونڈ،بھارت میں روئی کے سودے 87روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 33ہزار 800 روپے فی کینڈی، چائنہ میں روئی کے سودے742یوآن فی ٹن کمی کے بعد 19 ہزار 258یوآن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من کمی کے بعد 5ہزار900روپے فی من تک مستحکم رہے۔

Courtesy: Express

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More