پاکستان میں سالانہ 32لاکھ ٹن گندم ضائع ہوجاتی ہے، رپورٹ

  پير 14 جنوری 2013

کراچی: اسٹوریج اور انفرااسٹرکچر سہولتوں کے فقدان کے سبب دنیا بھر میں سالانہ 50فیصد خوراک انسان کے دہن تک پہنچے بغیر ہی ضائع ہورہی ہے۔ 

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سالانہ 21ملین ٹن گندم ضائع ہوتی ہے جو آسٹریلیا میں گندم کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔
پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سالانہ 21ملین ٹن گندم ضائع ہوتی ہے جو آسٹریلیا میں گندم کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف مکینکل انجینئرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ترقی پذیر ممالک میں خوراک اور زرعی اشیا کے ضیاع کی شرح بلند ہے خود پاکستان میں اسٹوریج کی جدید سہولتوںکے فقدان کے سبب سالانہ 32لاکھ ٹن گندم ضائع ہوتی ہے جو مجموعی پیداوار کا 16فیصد ہے پاکستان میں پھل اور سبزیوں کے ضیاع کی شرح اور بھی زیادہ ہے ۔ زرعی پیداوار کے ضائع میں فرسودہ ٹرانسپورٹ سسٹم، تباہ حال روڈ، موسم کی سختیاں اور کرپشن بھی شامل ہیں یہ تمام عوامل مل کر پاکستان جیسے ملکوں میں سپلائی چین کے مسائل کو مزید ابتر بنارہے ہیں۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سالانہ 21ملین ٹن گندم ضائع ہوتی ہے جو آسٹریلیا میں گندم کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 4ارب ٹن خوراک میسر ہوتی ہے تاہم فرسودہ اور غیرموزوں انفرااسٹرکچر کی وجہ سے نصف خوراک ہر سال ضائع ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر کے ذریعے مکئی اور گندم کی پیداوار 5سال تک محفوظ بنائی جاسکتی ہے اسی طرح زیر زمین اگنے والی سبزیاں بھی کئی ماہ تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں تاہم نرم پھل، پتوں والی سبزیاں، گوشت اور ڈیری مصنوعات بہت جلد تلف ہونے والی اشیا ہیں جنہیں محفوظ رکھنے کے لیے  درجہ حرارت، ہوا میں نمی اور مطلوبہ مقدار میں آکسیجن فراہم کیے بغیر چند گھنٹوں سے زیادہ محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔

گلوبل فوڈ ویسٹ نوٹ وانٹ نوٹ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ذریعے ترقی پذیر ملکوں کو جدید انجینئرنگ معلومات اور ڈیزائن سمیت ٹیکنالوجی کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے جس سے کاشت سے قبل اور کاشت کے بعد خوراک کو بہتر طریقے سے محفوظ کرنے میں مدد ملیگی۔

ترقی پذیر ملکوں کو ضائعہونیو الی خوراک اور پیداوار کو بچانے کے لیے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر اور اسٹوریج کی سہولتوں کو بہتر بناتے ہوئے ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج سہولتوں کو جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، خوراک کو ضائعہونے سے بچانے کے لیے صارفین کے رجحان کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس میں خوراک کی ظاہری بناوٹ کی بنیاد پر ضائع کرنے یا ضرورت سے زیادہ اشیا خرید کر گھروں میں استعمال کیے بغیر ضائعکیے جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ضروری قرار دی گئی ہے۔

Courtesy: Express

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More