زرعی یونیورسٹی: پاکستان میں مجموعی قابل کاشت رقبے کا 26فیصد شورزدہ

14جنوری 2013ء

 زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں

فیصل آباد() پاکستان میں مجموعی قابل کاشت رقبے کا 26فیصد شورزدہ ہے جس میں آئے روز مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے سالوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے غذائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے سیلائن ایگریکلچر ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام ایک روزہ سیمینار برائے تھورزدہ زمینوں کے جائزے کے لئے زرعی فصلات کا ریموٹ سنسنگ نظام کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے دریا سندھ سے سیراب ہونے والے زرعی رقبے میں سے 4.22 ملین ہیکٹر سیم اور تھور کی نذر ہو رہا ہے جس کی پیمائش اور اسے مزید پھیلاؤ سے روکنے کے لئے سائنسدانوں کو GIS ٹیکنالوجی اور ریموٹ سنسنگ پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں تعلیمی سال میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ریموٹ سنسنگ کے پروگرام کا اجراء کر رہی ہے جس سے نہ صرف تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے میں مدد لی جا سکے گی بلکہ پریسین ایگریکلچر کو عملی طور پر اپنایا جا سکے گا۔ ان سے پہلے آسٹریلیا کے کامن ویلتھ سائنٹیفک انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے پرنسپل ریسرچ سائنسدان ڈاکٹر وقار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک جغرافیائی اطلاعاتی نظام (GIS) کے بارے میں سنجیدگی سے کوششیں بروئے کار نہیں لائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی سائنسدانوں نے 1972ء سے سیٹلائٹ کے ذریعے فصلوں کے علاوہ قدرتی وسائل کی مانیٹرنگ کا نظام اپنایا ہوا ہے جس سے نہ صرف آسٹریلیا پوری دنیا کے لئے خوراک برآمد کرنے والا ایک ہم ملک بن چکا ہے بلکہ اس کی ٹیکنالوجی بھی انتہائی جدتوں کی حامل ہے۔ ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 1800پوسٹ گریجویٹ اداروں میں GIS کی تعلم دی جا رہی ہے جبکہ آسٹریلیا پرائمری کی سطح پر بچوں کو اس تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ٹیکنالوجی میں دسترس رکھنے والے ممالک میں ڈرون ٹیکنالوجی کو فصلاتی جائزے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیلائن ایگریکلچر ریسرچ سنٹر کے انچارج پروفیسرڈاکٹر جاوید اختر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانی کے متناسب استعمال کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے صنعتوں اور گھریلو سطح پر خارج ہونے والے پانی کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والا پانی نہ صرف ضائع ہو رہا ہے بلکہ زمینی وسائل کو آلودہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا 42فیصد آبپاش رقبہ سیم اور تھور کے مسائل سے دوچار ہے جبکہ سمٹتے ہوئے آبی وسائل کی بدولت ٹیوب ویل کے زیادہ استعمال کی بدولت زیرزمین پانی کی سطح کم ہونے کے ساتھ ساتھ نمکیات میں اضافے کا باعث بھی بن رہا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا کہ نمکیات کے بڑھتے ہوئے تناسب کی صورتحال زرعی پیداواریت کے لئے چیلنج بن چکی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کا 13فیصد جبکہ ملک کا مجموعی طور پر 40فیصد رقبہ اس کی نذر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 3ملین ایکڑ اور ملک کے 7ملین ایکڑ پر پھیلے ہوئے نمکیات سے متاثر اس رقبے کی جدید پیمانوں پر آج تک گذشتہ 20سالوں سے پیمائش کا نظام نہیں اپنایا جا سکا۔ تقریب سے ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد نے خطاب کرتے ہوئے اس سیمینار کو مستقبل کے حوالے سے اہم ترین پیش رفت قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ سائنسدان مل بٹھ کر ان مسائل کا ٹھوس حل نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ نقابت کے فرائض ڈاکٹر حافظ انوارالحق نے ادا کئے۔

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More