حکومت پنجاب کازرعی و لائیو سٹاک مصنوعات کی سپلائی چین کی بہتری کا منصوبہ

04

جنوری 2013

زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات
زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پرمحکمہ زراعت و لائیو سٹاک کی طرف سے مشترکہ طور پر 2ارب روپے کی لاگت سے ’’ زراعت و لائیو سٹاک کی مصنوعات کے لئے سپلائی چین مینجمنٹ کے منصوبہ ‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے ذریعہ منتخب زرعی ولائیوسٹاک پراڈکٹس کی سپلائی چین کو بین الاقوامی معیار پر لایا جائے گا تاکہ یہ پراڈکٹس مکمل طور پر قابل شناخت(fully traceable) ہوں اور ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں تاکہ ہمارا کاشتکار اپنی محنت کا صحیح معاوضہ حاصل کر سکے۔ اس منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو زرعی اور لائیو سٹاک فارمز کی گلوبل گیپ ، سپلائیرز اور لاجسٹک کمپنیز کی انٹرنیشنل فیچرڈ سٹینڈرڈز (IFS) سرٹیفیکیشن اورانفرا سٹرکچر کی فراہمی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت تجارتی پلیٹ فارمز/کولیکشن سنٹرز کے قیام کے ساتھ بھی کاشتکاروں کو ملکی و بین الاقوامی ریٹیل سنٹرز کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی برآمدات میں اضافہ ہو اور زرعی شعبہ کو اور زیادہ منافع بخش بنایا جا سکے ۔اس سسٹم کی وجہ سے فارمرز کا نہ صرف آڑھتی پر انحصار کم ہو گا بلکہ اسے معاوضہ بھی بہتر ملے گا۔

اس پروگرام کے پہلے مرحلہ میں 50 کاشت کار، سپلائر، تاجر اور ٹرانسپورٹر کو گلوبل گیپ Global GAP) ( اورانٹرنیشنل فیچرڈ سٹینڈرڈز (IFS)کی تربیت دی گئی ۔ جس کے باعث کاشتکاروں/ پروسیسرز اور نقل و حمل کی کمپنیوں کی ایک کثیر تعداد نے گلوبل گیپ اور آئی ا یف ایس سرٹیفیکیشن حاصل کی ہے ۔ ان میں سے20 کا شتکاروں اور پروسیسرز نے بین الاقوامی گرین ویک جوکہ 20 سے29 جنوری 2012 میں جرمنی کے شہر برلن میں منعقد ہوا۔ اپنی سرٹیفائیڈ اور قابلِ شناخت پروڈکٹس کے ساتھ شرکت کی۔ اس وفد کی نہ صرف قیادت عزت مآب جناب میاں محمد شہباز شریف،وزیر اعلیٰ پنجاب نے کی بلکہ برآمدات کرنے والی کمپنیوں کی کانفرس کی بھی قیادت کی۔ مذکورہ دورہ سے نہ صرف ہمیں ایکسپورٹ آڈر ملے بلکہ پاکستانی پروڈکٹس کی ایکسپورٹ کے لئے متوقعہ ممکنہ حد اور پذیرائی بھی سامنے آئی۔اس طرح حکومت پنجاب نے “انٹرنیشنل گرین ویک”ْ میں تاریخی شمولیت کے ذریعے صرف سات ماہ کے قلیل عرصہ میں 20مکمل طور پر قابل شناخت زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات بین الاقوامی سطح پرمتعارف کرائیں جو حکومت پنجاب کی شاندار کامیابی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے زرعی و لائیو سٹاکسیکٹر کی ترقی بارے منہ بولتا ثبوت ہے جس پر ہر پاکستانی کوبجا طور پر فخر ہونا چاہیے ۔ اس تاریخی کامیابی کی وجہ سے پاکستانی زرعی و لائیوسٹاک مصنوعات کو گلوبل گیپ اورانٹرنیشنل فیچرڈ سٹینڈرڈز (IFS) کی سرٹیفکیشن حاصل ہونے سے بین الاقوامی سطح پر ان مصنوعات کی برآمدات سے غیر ملکی زرمبادلہ کے وسائل پاکستان آئیں گے جس سے اس شعبہ میں مزید ترقی و بہتری ہوگی۔

اس منصوبہ کے تحت سپلائی چین کے چاروں سٹیک ہولڈر (stakeholder) یعنی فارمرز(farmers)، سپلائرز (suppliers)، نقل و حمل کی کمپنیز(logistic companies) اور تاجر(traders)کو بیک وقت ایک سطح پر لایا جا رہا ہے تاکہ سپلائی چین کاایک مربوط نظام بن سکے۔ اس پروگرام کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:

* بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل طور پر قابل شناخت Fully Traceable مصنوعات کی تیاری۔

* پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے ذریعہ مستقل بنیادوں پر برآمدات کا فروغ۔

* برداشت اور بعد از برداشت مراحل میں نقصانات میں کمی۔

* بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی ۔

اس منصوبہ میں سپلائر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے جو کاشتکار وں کے ساتھ رابطہ کے علاوہ مارکیٹ کے ساتھ بھی منسلک ہو گا تاکہ کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا بہتر معاوضہ حاصل کیا جاسکے۔ منصوبہ کے تحت گلوبل گیپ (Global GAP) اور انٹرنیشنل فیچرڈ سٹینڈ رڈز(IFS)سرٹیفیکیشن کے حصول ، پیداوار بڑھانے اور کھیت پر نقصانات کم کرنے کے لیے زرعی مشینری کی فراہمی اور فارم پر بننے والے پیک ہاؤس یا پراسیسنگ یونٹ کے لئے مشینری کی خریداری کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے 70فیصد تک مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔منصوبہ کے تمام سٹیک ہولڈرز کا چناؤ منظور شد ہ طریقہ کار اور ایک معیاری وشفاف نظام کے تحت کیا جا رہا ہے ۔

حکومت پنجاب صوبہ کی زرعی و لائیو سٹاک مصنوعات کو بین الاقوامی حفظانِ صحت کے اصولوں اور معیار کے مطابق یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک خصوصاََ یورپین یونین کے ممالک میں قابلِ شناخت مصنوعات کی طلب بڑھ رہی ہے ۔ کسی پراڈکٹ کے قابلِ شناخت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ:
۔ گلوبل گیپ(Global G.A.P.) سرٹیفائیڈ فارم پر پیدا کی گئی ہو۔
۔ گریڈنگ ،پیکنگ اور پراسیسنگ IFS-food سرٹیفائیڈ پیک ہاؤس یا پروسیسنگ یونٹ پر کی گئی ہو۔
۔ نقل و حمل ، ترسیل اور سٹوریج IFS-logistics سرٹیفائیڈ کمپنی اور IFS-broker سرٹیفائیڈ تاجر کے ذریعہ کی گئی ہو ۔

ماہرین کے مطابق آم کی فصل کی برداشت اور بعد از برداشت نقصانات کا تخمینہ 25-30 فیصد ہے جن میں سے 10 فیصد نقصان صرف فارم پر غیر معیاری برداشت اور نقل وحمل کے طریقہ کار کو اپنانے کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ باقی ماندہ نقصانات پراسیسنگ کے دوران غیر معیاری درجہ بندی اور پیکنگ کے طریقوں اور فروخت کے مختلف مراحل کے دوران واقع ہو تے ہیں جن پرپوسٹ ہاویسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے قابو پایا جاسکتاہے۔مذکورہ پراجیکٹ کے تحت 1350 آم کے فارمرز جو کہ30 سپلائرز کیساتھ منسلک ہونگے ان کی گلوبل گیپ سرٹیفیکیشن جبکہ ان سپلائر ز اور 5 ویلیو ایڈیشن یونٹس کی IFS-food سرٹیفیکیشن ،8لاجسٹک کمپنیزکو IFS-logistics اور 7 تاجروں/ برآمد کنندگان کو IFS-brokerسرٹیفیکیشن کا حصول عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ اس تمام ویلیو چین کو مکمل طور پر قابلِ شناخت (Fully Traceable)بنا یا جا سکے۔ مزید برآں ان تمام سٹیک ہولڈرز کی تربیت کیلئے متعلقہ منتخب مصنوعات کے متعلق تربیتی مواد پر مبنی ایک کتاب بھی تشکیل دی جارہی ہے۔اسی طرح آم کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید سائنسی طریقہ کار کے مطابق ہدایات پر مشتمل ایک کتاب زمینداروں/ کاشتکاروں کو فراہم کی جارہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر فصل کے ماہر کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے ملکی اور غیر ملکی کمپنیز کو حکومت کے فارمز پر نمائشی پلاٹس لگانے کی دعوت دی جارہی ہے جس کی کوئی لاگت نہیں وصول کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں اس جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچانے کے لیے ایک موثر حکمت عملی وضع کی گئی ہے ۔ امید ہے کہ اس منصوبہ کے تحت آم کی پیداوار میں50 فیصد تک اضافہ ممکن ہوسکے گا۔

(زرعی فیچر سروس میڈیا لائزان یونٹ، راولپنڈی)

Copyright:  Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More