لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر اقبال لہری نے استعفیٰ دے دیا

لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تقرری کے لیے جلد ہی اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قوائد و ضوابط کے مطابق تقرری کی جا سکے

لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ
لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ

اسلام آباد (نیوز ویوز سروس) لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر اقبال لہری نے یکم جنوری 2013 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ انہوں نے وفاقی سیکرٹری (جو بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین ہیں) کے نام ایک خط میں بطور چیف ایگزیکٹیو لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے ۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اقبال لہری ڈینٹل سرجن ہیں ۔ ان کو وفاقی سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے ایک حکم نامے کے ذریعے چیف ایگزیکٹیو کے عہدے پر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھاجس پر بورڈ آف ڈائریکٹر کے ممبران نے احتجاج کیا اور وفاقی سیکرٹری سے کہا کہ اگر انہوں نے یہ تقرری منسوخ نہ کی تو اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اس تقرری پر چیف ایڈیٹر ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز و

کوآرڈینیٹر نیشنل ویٹرنری کلب پاکستان نے بھی سخت ردّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ تقرری منسوخ نہ کی گئی تو اس پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔
با خبر ذرائع کے مطابق لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تقرری کے لیے جلد ہی اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قوائد و ضوابط کے مطابق تقرری کی جا سکے۔

ڈاکٹر خالد محمود شوق نے نیوز ویوز سروس کو بتایا کہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ اپنے مقاصد کھو چکا ہے اس میں اب چیف ایگزیکٹیو کی تقرری کی بجائے قانون کے مطابق بورڈ کو ختم کیا جائے اور اس کے اثاثہ جات صوبائی محکمہ جات برائے لائیوسٹاک صوبہ جات کے حوالے کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ میں بد عنوانی اور بد نیتی کے باعث کوئی بھی سکیم پروان نہیں چڑھی ۔ اس سے قومی دولت اور اثاثہ جات کا ہمیشہ ضیاع ہوا ہے اس لیے حکومت اس طرح کے فضول کام کرنے کی بجائے صوبہ جات میں موجود پہلے سے قائم صوبائی محکمہ جات  لائیوسٹاک کے ذریعے قومی وسائل کا استعمال کرے۔

اگرچہ حکومت کے پورے ڈھانچے کی تباہی کے باعث صوبائی محکمہ جات برائے لائیوسٹاک میں بھی زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے اور وہاں بھی افسران کی ذہنی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی نیت درست کریں اور صحیح حکمت عملی سے سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے لائیوسٹاک کے شعبہ کو ترقی دیں اوراپنے فرائض صحیح طریقے سے سر انجام دیں تاکہ ان کی بد عملی کے باعث سرکاری شعبہ میں لوٹ کھسوٹ کے جو طریقہ جات بیوروکریسی نکالتی ہے اس پر قابو پایا جا سکے۔
ڈاکٹر خالد محمود شوق نے مزید کہا کہ تمام صوبہ جات میں لائیوسٹاک کے محکمہ جات کے انفراسٹکچر میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ ان کے اہداف اور مقاصد کو بھی نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More