دھان کی کٹائی، پھنڈائی اور سنبھال

تاریخ: 01جنوری 2013

 عمدہ بیج کا استعمال ، زمین کی مناسب تیاری
عمدہ بیج کا استعمال ، زمین کی مناسب تیاری

مونجی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے جہاں کئی دوسرے عوامل مثلاً خالص اور عمدہ بیج کا استعمال ، زمین کی مناسب تیاری، صحیح وقت کاشت، کھادوں کا مناسب استعمال اور کیڑوں سے فصل کا بچاؤ وغیرہ ضروری ہیں وہاں مناسب وقت پر کٹائی اور پھنڈائی بھی بہت اہم ہے۔ اس طرح زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمدہ اور ثابت چاول کی پیداوار بھی زیادہ مل سکتی ہے۔ زیادہ اور اضافی چھڑائی کے حصول اور عمدہ پکائی حاصل کرنے کیلئے بھی مناسب وقت پر فصل کی کٹائی اورپھنڈائی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگیتی کٹائی کی صورت میں مونجی میں سبز اور کچے دانوں کی تعداد اور مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ ان دانوں کی نشوونما نامکمل ہوتی ہے اس لئے یہ کمزور ہو جاتے ہیں اور کافی حد تک چھڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان دانوں میں سفیدی کا حجم بھی زیادہ ہوتا ہے اور اکثر چاول پکائی کے دوران پھٹ جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اگر فصل کو پوری طرح پک جانے کے بعد بھی کھیت میں کھڑا رہنے دیا جائے تو ضرورت سے زیادہ پکنے اور خشک ہو جانے کی صورت میں دانوں میں چوڑی پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے چاول چھڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ عمدہ کوالٹی حاصل کرنے کیلئے مناسب وقت پر کٹائی بہت اہم ہے۔

جب دھان کی فصل پکنے کے قریب ہوتی ہے تواس کو پانی کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے فصل کی کٹائی سے دو ہفتہ قبل کھیت سے پانی نکال دیں اور کھیت کو خشک ہونے دیں تاکہ فصل کاٹنے میں آسانی رہے۔ کٹائی کے وقت کھیت میں پانی کی موجودگی سے فصل گر سکتی ہے جس سے سٹے پانی میں خراب ہو جاتے ہیں۔ نرم زمین ہونے کی صورت میں نہ تو مزدور اچھی طرح کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی مشین استعمال کی جا سکتی ہے۔ جب دھان کی فصل پک جاتی ہے تو دھان کے تنے کی سنڈیاں تنے کے نچلے حصے اور مڈھوں میں چلی جاتی ہیں۔ کٹائی کرتے وقت اگر فصل کو سطح زمین کے قریب سے کاٹا جائے تو اکثر سنڈیاں پرالی میں چلی جاتی ہیں اور اس طرح تلف ہو جاتی ہیں۔ زیادہ اونچی کٹائی کرنے سے یا مشینی کٹائی سے تنے کی سنڈیاں نیچے رہ جاتی ہیں اور سردیاں مڈھوں میں گزارتی ہیں۔ اگر مڈھوں کو ہل چلا کر تلف نہ کیا جائے تو یہ سنڈیاں مارچ میں پروانے بن کر گھاس اور گزشتہ سال کے دھان کے گرے ہوئے بیج کی پھوٹ پر افزائش نسل شروع کر دیتی ہیں اور آنے والی فصل کیلئے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

دھان کی کٹائی کے بعد جلد از جلد پھنڈائی کر لیں اور فصل کو کھیت میں پڑا نہ رہنے دیں۔ کٹائی اور پھنڈائی کے درمیان جتنا زیادہ وقفہ ہو گا کل حاصل کردہ چاول کی ریکوری اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔ چاول کی کٹائی کے موسم میں عموماً دن قدرے گرم ہوتے ہیں جبکہ راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور کافی مقدار میں اوس بھی پڑتی ہے جس سے کھیت میں پڑی ہوئی فصل اوس سے بھیگ جاتی ہے اور دن کی دھوپ سے سوکھ جاتی ہے۔ اس طرح متواتر تر اور خشک ہونے سے دانوں میں چوڑی پڑ جاتی ہے اور چھڑائی متاثر ہوتی ہے۔

دستی کٹائی:۔ جب دانوں میں نمی کی مقدار 20 تا 22 فیصد رہ جائے تو دھان کی فصل کٹائی کے قابل ہو جاتی ہے۔ دوسر طریقہ یہ ہے کہ جب مونجر کے اوپر والے دانے اچھی طرح پک جائیں مگر سب سے نچلے دو تین دانے اچھی طرح بھر چکے ہوں لیکن ابھی سبزی مائل ہوں تو فصل کی کٹائی کر لیں۔ اس وقت سٹے کے اوپر والے دانے صاف، شفاف، مضبوط اور 90 تا 95 فیصد دانے خشک پرالی کے رنگ کی طرح کے ہو چکے ہوں گے۔ اس وقت کٹائی کرنے سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے اور عمدہ چھڑائی کے علاوہ جو صفات اچھے چاول میں پائی جانی چاہئیں وہ بھی موجود ہوتی ہیں۔ دھان کی فصل کا تقریباً 20 فیصد مزدوروں سے کٹایا جاتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ رقبہ کاٹ کر رکھ لیا جائے تاکہ اکٹھی پھنڈائی کی جا سکے۔ کٹائی کے بعد جتنی جلدی پھنڈائی کر لی جائے چھڑائی میں اتنا ہی ثابت چاول زیادہ اور ٹوٹا کم حاصل ہو گا۔ رات کے وقت دانوں کو ترپال یا پرالی سے ڈھانپ دیں تاکہ اوس کی نمی سے محفوظ رہیں۔ بے احتیاطی یا لاپرواہی سے پھنڈائی کرنے پر بہت سے دانے ضائع ہو جاتے ہیں۔

مشینی کٹائی:۔ پچھلے چند سالوں سے دھان کی کٹائی کیلئے مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں اور تقریباً 80 فیصد رقبہ ان کی مدد سے کاٹا جاتا ہے۔ مشینیں کھیت میں کھڑے ہر قسم کے پودوں کو کاٹ لیتی ہیں اور اس طرح ملاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔ گندم کاٹنے والی مشینیں عموماً سبز، کمزور اور خالی دانے جھاڑنے کے ساتھ ساتھ پودے کے سبز حصے بھی کاٹ لیتی ہیں جو مونجی میں زیادہ نمی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ مشینیں اکثر دانوں سے چھلکا اتاد دیتی ہیں اور چند دانے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ چونکہ مشین سے کاٹی ہوئی فصل میں نمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے ایسی فصل کو ذخیرہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔ مشینی کٹائی سے ایک اندازے کے مطابق 4سے 6 فیصد تک ثابت چاول کل حاصل کردہ چاول کا کم ہو جاتا ہے۔ یہ نقصانات چاول کاٹنے والی مشین سے کم ہوتے ہیں۔مشینی کٹائی کے نقصانات کو مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کر کے کم کیا جا سکتا ہے۔

دھان کی فصل کی کٹائی کیلئے وہ کمبائن ہارویسٹر استعمال کریں جو بنیادی طور پر دھان کی کٹائی کیلئے بنائی گئی ہوں۔ مثلاً جاپان اور کوریا کی مشینیں دھان کی کٹائی کیلئے بنائی گئی ہیں اس لئے وہ پھنڈائی کے دوران دانہ کم توڑتی ہیں۔ گندم کی کٹائی والی مشینوں سے دھان کی کٹائی کرنے کیلئے مخصوص پرزہ جات استعمال کریں۔ مشین کرایہ پر لینے سے پہلے اس بات کی تسلی کر لیں کہ مشین آپریٹر تربیت یافتہ ہے اور مشین کو فصل کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دھان کاٹتے وقت مشین کی رفتار مقررہ حد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ گری ہوئی اور زیادہ اونچی فصل کی کٹائی کرتے وقت مشین کی رفتار کم رکھیں۔ دھان کی کٹائی بذریعہ مشین کراتے وقت تسلی کر لیں کہ مشین کا گیئر، تھریشنگ ڈرم اور پنکھے کی رفتار مشین کے ساتھ فراہم کردہ ہدایت نامہ کے مطابق ہے۔ کٹائی کے دوران وقفہ وقفہ سے مونجی کا معائنہ کر کے چھلے اور ٹوٹے ہوئے دانوں کا تعین کرتے رہیں تاکہ مشین کو بروقت ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ کٹائی کے دوران مشین کے پیچھے چادر یا کپڑا لگا کر وقتاً فوقتاً تسلی کر لیں کہ مونجی کے دانے پرالی میں نہیں جا رہے۔ اگر کسی وجہ سے دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو جائے اور دانوں میں نمی کی سطح 18 فیصد سے نیچے چلی جائے تو اس صورت میں مشینی کٹائی سے اجتناب کریں وگرنہ چھڑائی میں ٹوٹا بہت زیادہ ہو گا۔ دھان کی ایک قسم کی کٹائی کے بعد اور دوسری قسم کی کٹائی سے پہلے مشین کی مکمل صفائی کریں تاکہ مختلف قسموں کی ملاوٹ نہ ہو اور چاول کی کوالٹی پر برا اثر نہ پرے۔ پھنڈائی کے بعد پیداوار کو جلد از جلد منڈی پہنچا دیں اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو دن کے وقت ڈھیر کو کھول کر ہوا لگوا لیں۔

مونجی کو خشک کرنا:۔ عمدہ کوالٹی کا چاول حاصل کرنے کیلئے پھنڈائی کے فوراً بعد مونجی کو مناسب طریقے اور پوری احتیاط سے خشک کرنا بہت ضروری ہے۔ کٹائی کے وقت مونجی میں نمی کا تناسب 20 تا 22 فیصد تک ہوتا ہے جس کی وجہ سے ذخیرہ کے دوران پھپھوندی لگ جانے سے چاول کا رنگ بدل سکتا ہے۔ عام طور پر مل مالکان محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ مقدار میں نئی (گیلی) مونجی خریدتے ہیں اور فوراً خشک کرنے کی غرض سے مونجی کو زیادہ درجہ حرارت پر سکھاتے ہیں جس سے دانوں میں چوڑی پڑ جاتی ہے۔ کسی بھی حالت میں سکھائی کے عمل کے دوران چاول کا درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھنا چاہیے۔ زیادہ مناسب درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ مونجی کو آہستہ آہستہ اور وقفوں سے خشک کریں اور ہر وقفے کا دورانیہ 12 گھنٹے سے کم نہ ہو۔ یعنی مونجی کو کم از کم 12 گھنٹوں کیلئے چھوڑ دیں تاکہ چاول کے دانوں میں نمی کی مقدار یکساں ہو جائے۔ مونجی کی خریداری کے وقت نمی کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اور مختلف نمی والی کھیپوں کو علیحدہ علیحدہ خشک کریں۔ اگر کم زور زیادہ نمی والی مونجی کو اکٹھا خشک کیا جائے گا تو مقابلتاً پہلے سے کم نمی والے دانے بہت زیادہ خشک ہو جانے سے چوڑی پڑنے کی وجہ سے ٹوٹ جائیں گے۔

پیداوار کو بحفاظت سٹور کرنا:۔ ایسی پیداوار جسے گھر میں اپنے استعمال یا بیج کیلئے رکھنا مقصود ہو اسے دھوپ میں5-4 روز خشک کریں اور اس کو ہوا یا مشین کے ذریعے صاف کر لیں یا پتل علیحدہ کر لیں اور جب مونجی کو چبانے سے چاول تڑک کی آواز کے ساتھ ٹوٹے یعنی جس وقت اس پیداوار میں نمی 13 تا 14 فیصد رہ جائے تو یہ ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ اس پیداوار کو بوریوں میں بھر کر گوداموں میں ذخیرہ کر لیں۔ اس امر کا خاص خیال رکھیں کہ سٹور کرنے سے پہلے نئی بوریاں استعمال کی جائیں یا پرانی بوریوں کو اچھی طرح صاف کر کے دھوپ میں سکھا لیں۔ پیداوار سٹور کرنے سے پہلے گوداموں میں کیڑے مار دوائی محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ کے بعد سپرے کریں۔

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

میڈیا لائزان یونٹ، راولپنڈی

نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر انفارمیشن

051-9291198

mlur2007@gmail.com

Copyright @ Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More