ماہ بماہ

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

گزشتہ ماہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز کے کانوکیشن کا انعقاد ہوا جس میں1072 فارغ التحصیل طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب میں سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے شرکت کی ۔ یونیورسٹی کانووکیشن میں بطور چانسلر ان کی یہ شرکت آخری ثابت ہوئی کیونکہ کانوو کیشن کے چند دن بعد ہی انہوں نے سیاسی جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے گورنر ہاؤس کو خیر باد کہہ ڈالا۔ کانووکیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مطلب تبدیلی ہے اس لیے طلباء وطالبات اپنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کریں اور قوم کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پا شا نے یونیورسٹی کے تعلیمی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی 10 انڈر گریجوئیٹ ،23 شعبوں میں M.Phil اور 20 شعبوں میں Ph.D ڈگری پروگرامز پیش کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں لائیو سٹاک ڈیری، پولٹری، فیشریز اور وائلڈ وائف اور نیوٹریشن کے شعبوں میں ڈپلومہ کورسز کے ساتھ ساتھ مختلف تربیتی پروگرام بھی کروا رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی لائیوسٹاک کے شعبہ کی ترقی میں اہم کردار اد کر رہی ہے۔

لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ بورڈ اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر اقبال لہری کو بطور سی ای او تعینات کر دیا گیا۔ بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے فوراََ منسوخ کیا جائے۔ اس سلسلے میں بورڈ کی جانب سے سیکرٹری فوڈ سیکوٹی کو خط بھی لکھا گیا ۔ بورڈآف ائریکٹرز کے مطابق اگر یہ غیر قانونی تقرری منسوخ نہ کی گئی تو معاملہ عدالت میں لے جایا جائے گا۔

ادارہ نیوز اینڈ ویوز کی جانب سے گزشتہ ماہ زرعی میڈیا نامی پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ۔اس پراجیکٹ کے تحت www.zaraimedia.com

ایک ویب سائیٹ لانچ کی گئی ہے جس کے ذریعے زراعت ، لائیوسٹاک اور اس سے متعلقہ دیگر شعبہ جات کے بارے میں خبریں، تجزیے، تبصرے اور مقالہ جات لوگوں تک پہنچائی جائیں گی۔ اس پراجیکٹ کے ایڈیٹر ان چیف ڈاکٹر خالد محمود شوق اور ڈائریکٹر پروڈکشن خرم شہزاد ہوں گے جبکہ مجھے اس پراجیکٹ کے ایڈیٹر کے فرائض سونپے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ٹی وی کے پروگرام کھیت پنجاب دے کے اینکر سعید مغل بھی زرعی میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں گے۔


دسمبر میں مجھے شہزادی شمیم کبیر سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ شہزادی شمیم کبیر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ ہیں اور پبلک فسیلیٹیشن سنٹر کی انچارج ہیں۔ اس سنٹر کی تفصیلات بتاتے ہوئے شہزادی شمیم کبیر نے بتایا کہ پبلک فسیلیٹیشن سنٹر کے قیام کا مقصد عام لوگوں کے لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر بنائے گئے اس سنٹر کی بدولت نہ صرف مویشی پال حضرات کی شکایات دور کی جارہی ہیں بلکہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کے مسائل کو بھی حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ کے انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لئے میں محکمہ کے مختلف دفاتر اور سنٹرز کا دورہ کرتی رہتی ہوں جبکہ میرا سٹاف بھی مجھے اس حوالے سے باخبر رکھتا ہے۔ ایک خاتون سے بہتر خواتین کے مسائل کو کوئی نہیں سمجھ سکتی اس بنا پر میں نے ان سے لیڈی ویٹرنری ڈاکٹرز کے مسائل کے بارے میں ذکر کیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیڈی ویٹرنری ڈاکٹرز لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کا سرمایہ ہیں اور ان کو درپیش مسائل کو میں ذاتی مسائل کی طرح حل کرتی ہیں۔ لیڈی ویٹرنری ڈاکٹر کی پوسٹنگ ان کے گھر کے قریب ترین مقام پر ہونی چاہئے اور انہیں ایسا ورکنگ اینوائرمنٹ فراہم کیا جانا چاہئے جس میں وہ آسانی سے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ پوسٹنگ سے متعلق کسی بھی لیڈی ویٹرنری ڈاکٹر کو اگر مسئلہ ہو تو وہ بلا جھجھک میرے دفتر میں رابطہ کرے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ویٹرنری ہسپتالوں اور ڈسٹرکٹ لائیوسٹاک آفیسر ز کے دفاتر میں پبلک فسیلٹیشن سنٹر کی جانب سے شکایات بکس نصب کئے جائیں گے۔ شہزادی شمیم کبیر کے ساتھ ساتھ خادم حسین قصوری کی سرگرمیاں بھی گزشتہ ماہ جاری رہیں۔ خادم حسین قصوری بھی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے معاونِ خصوصی برائے لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ ہیں۔ انہوں نے تحقیقاتی مرکز ساہیوال گائے جھنگ کا دورہ کیا اور وہاں کے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کروائی۔

دسمبر کے آخر میں میری پیمکو کے چیف ایگزیکٹو عمران امجد سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ پیمکو کے پروگرام “فربہ سکیم” اور “کٹا بچاؤ سکیم” کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب جنوری 2013 میں پنجاب بھر کے 2000سے زائد کسانوں میں 55ملین روپے تقسیم کریں گے جبکہ اس سے قبل پیمکو جانور پال کسانوں میں 28 ملین روپے تقسیم کر چکی ہے۔انہو ں نے مزید بتایا کہ جدید سلاٹر ہاؤس لاہور میٹ پروسیسنگ کمپلیکس شاہ پور کانجراں کامیابی سے چل رہا ہے جہاں روزانہ تین ہزار کے قریب چھوٹا جانور ( مٹن) جبکہ تین سو سے زائد بڑا جانور (بیف ) سلاٹر کیا جا رہے ہیں۔ گوشت برآ مد کرنے کے لئے میٹ ایکسپورٹر کی رجسٹریشن کی جارہی ہے۔ہارٹیکلچر کے پروجیکٹس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پیمکو نے لیہ ، بھکر کو بیج کے بغیر” سٹرس ویلی”، پوٹھوہار کو ” زیتون ویلی” اور چولستان کو بیج کے بغیر “انگور ویلی بنانے کے لئے عملی اقدامات کرتے ہوئے بیرون ممالک سے اعلیٰ کوالٹی کے پودے درآمد کرکے کسانوں میں مفت تقسیم کر دیئے ہیں، اب ان کی مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی غیر قانونی سلاٹرنگ کے خلاف کاروایاں جاری رہیں، چھاپے مارے گئے اور چلان بھی کئے گئے۔ ڈی سی او لاہورنورالامین مینگل نے بھی اس عظم کا اظہار کیا کہ غیر قانونی مذبح خانوں کو کام جاری رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور گوشت کی کوالٹی اور جدید طریقے سے ذبح کرنے پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب قصابوں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت گوشت فروخت کرنے کے حوالے سے اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے اور قصابوں کو اس سلسلے میں ناجائز ہراساں کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ سیکرٹری لائیوسٹاک کی جانب سے پنجاب کے 36اضلاع میں قائم سول ویٹرنری ہسپتالوں اورآرٹیفیشل انسیمینیشن سنٹرز کی درجہ بندی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیاگیا۔ یہ درجہ بندی B,AاورCکے لحاظ سے محکمہ فنانس حکومت پنجاب سے منظورشدہ 4ٹائرسروس سٹرکچر کے تحت محکمہ لائیوسٹاک اینڈڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب میں مختلف عہدوں کی تقرری کے لیے کی گئی ہے۔اس درجہ بندی کی تفصیلات میرے فیس بک اکاؤنٹ سے لی جا سکتی ہیںwww.facebook.com/jassar.aftab۔ گزشتہ ماہ سیکرٹری لائیوسٹاک نے شاد باد چولستان پراجیکٹ کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے لیے مٹانوالی اورموج گڑھ فارمز کادورہ کیا۔فارمز کی حالت زار دیکھ کرسیکرٹری صاحب نے سخت برہمی کااظہارکیا اور ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ تمام مسائل کوفوری طورپرحل کیاجائے۔ انہوں نے کمیونٹی کے لائیوسٹاک فارمرزسے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔ یاد رہے کہ 4 سال کے عرصہ پر محیط شادبادچولستان پراجیکٹ کے تحت محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے 419.409روپے کی لاگت سے 5ماڈل فارمز مٹانوالی، چاپو،جام گڑھ، موج گڑھ اورنورسربلوچاں بنائے گئے ہیں۔ منصوبہ میں شامل ہرفارم 500 ایکڑرقبہ پرمحیط ہے جس میں ہرفارم پر 25کمیونٹی ممبران کے جانوررجسٹرکئے گئے ہیں۔ 2013 اس منصوبے کا آخری سال ہے۔

لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہم کارنامہ جنوبی پنجاب کے مویشی پال حضرات کے لئے ڈسٹرکٹ لائیوسٹاک آفیسر بہاولپور کے دفتر میں ٹیلی سنٹرکا قیام ہے جس افتتاح دسمبر کے آخری ہفتے میں سیکرٹری لائیوسٹاک نے کیا۔ اس ٹیلی سنٹر کے قیام میں ٹیلی نار پاکستان نے بھی بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے دو عدد کمپیوٹر، انٹرنٹ کی سہولت اور ایک جنریٹر کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔ اس سنٹر کے قیام کا مقصد مویشی پال حضرات کی تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں موبائل فون کے ذریعے لائیوسٹاک سے متعلقہ مفید معلومات فراہم کرنا ہے۔

لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی اور مویشی پال حضرات کو پیرا ویٹرنری سروسز کی فراہمی کے لیے اس وقت لائیوسٹاک سروسز ٹریننگ سینٹر بہادرنگر اوکاڑہ اور ذیلی کیمپس لائیوسٹاک ٹریننگ سینٹرشیخوپورہ کے علاوہ راوی کیمپس یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائینسز پتوکی، بارانی لائیوسٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھیری مورت ضلع اٹک، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ذیلی کیمپس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 2 سالہ لائیوسٹاک اسسٹنٹ ڈپلومہ کی تربیت دی جارہی ہے۔ ویٹرنری اسسٹنٹ کورس کے امتحانات کے نتائج کے بعد گزشتہ ماہ لائیوسٹاک سروسز ٹریننگ سینٹر شیخوپورہ میں تقریب تقسیم انعامات منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد نواز سعید ڈائریکٹر جنرل (توسیع) تھے۔ تقریب میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے۔

حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایت پر لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ نے ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکی کو نیلی راوی نسل کی بھینسیں اور ساہیوال نسل کی گائے برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان مملک کی حکومتوں کی جانب سے دلچسپی ظاہر کرنے کے بعد کیا گیا۔ اس کے علاوہ عرب ممالک کو راجن پور سے اونٹ بھی برآمد کئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق ان ممالک میں پاکستانی جانوروں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پولٹری سیکٹر کی طرح ڈیری سیکٹر میں بھی کنٹرول شیڈ کا تصور فروغ پا رہا ہے اور اس سلسلہ میں سمیڈا کی ٹیم خصوصاََ عدنان علی صاحب کا اہم کردار ہے۔ سمیڈا کی جانب سے سال 2011-12 کے دوران اس طرز کے 113 فارمز بنوائے گئے جن میں 400 ملین روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔ گزشتہ ماہ سمیڈا کی دعوت پر ڈیری ماہرین پر مشتمل تین رکنی غیر ملکی وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور مختلف فارمز وزٹ کئے۔ وفد نے پاکستان میں عالمی معیار کے جدید ڈیر ی فارمز دیکھ خوشی کا اظہار کیا۔

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کا گزشتہ ماہ ایک اہم کارنامہ جاب فیئر کا انعقاد تھا۔ اس جاب فیئر میں ویٹرنری فارماسیوٹیکل ، ڈیری ، پولٹری اور فیڈانڈسٹریز سے 35 سے زائد نجی و ملٹی نیشنل کمپنیوں نے شرکت کی اور سٹال لگائے۔یونیورسٹی کے تمام کیمپسز کے ساتھ ساتھ دیگر یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کی بٹری تعداد نے جاب فئیر میں شرکت کی۔امید ہے کہ لاہور یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ دیگر ویٹرنری کے ادارے بھی اسی طرح کے میلہ جات کا انعقاد کریں گے۔ یقیناََ اس طرح کے گٹھ جوڑ سے نہ صرف طلباء طالبات کو شعبہ سے متعلق فیلڈ میں ہونے والی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان کے لئے روزگار کے بہتر مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جاب فئیر اور کانووکیشن کے علاوہ یونیوسٹی کی دیگر سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ دسمبر میں یونیورسٹی نے شہید بینظیر بھٹویونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز سندھ کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے جس کے تحت دونوں اداروں نے تعلیمی وتحقیقی میدان میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا۔ اس طرح انٹر یونیورسٹی باڈی بلڈنگ کے مقابلہ جات کا بھی انعقاد کیا گیا۔یونیورسٹی میں طلباء طالبات کی ہردلعزیز شخصیت ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی نے گزشتہ ماہ ایک نجی اخبار کو انٹر ویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ طلباء طالبات کو پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونیکیشن سکلز، پبلک ڈیلنگ اور ٹیکنیکل طور پر بھی ماہر ہونا چاہئے ۔ تجربے سے انسان سیکھتا ہے اس لئے طلباء کو شارٹ کٹس تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔

جنوبی پنجاب کی یونیورسٹیوں میں بھی ہلچل جاری رہی ۔سیکرٹری لائیوسٹاک نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویٹرنری کالج کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔دوسری جانب بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اس وقت کے گورنر پنجاب کی آمد پر ڈی وی ایم کے طلباء وطالبات پر مشتمل وفد نے ان سے ملاقات کی اور فیکلٹی کے مسائل سے تفصیلاََ آگاہ کیا۔اس کے ساتھ ساتھ پی وی ایم سی سے فیکلٹی کا الحاق نہ ہونے کے باعث گزشتہ ماہ بھی طلباء کااحتجاج جاری رہا۔
لسبیلہ یونیورسٹی سے خبر یہ ہے کہ ڈاکٹر پروفیسر محمد شریف پھولن کا کنٹریکٹ مکمل ہونے پر ڈاکٹر محمد اعظم کاکڑ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کے ڈین مقرر ہو گئے۔ ڈاکٹر شریف پھولن اب فیکلٹی میں بطور پروفیسر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔ اس یونیورسٹی سے خوشخبری یہ ہے کہ فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس نے پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل سے ایکریڈیشن حاصل کر لی ہے۔

گزشتہ ماہ سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر شریف پھولن کی قیادت میں لسبیلہ یونیورسٹی کے اساتذہ پر مشتمل 12 رکنی وفد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ کیا۔ وفد کے اعزاز میں فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی جانب سے تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صارفین کو اعلیٰ معیار کی کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے لاہور کے بعد دوسرے شہروں کا رخ بھی کر لیا۔ گزشتہ ماہ دودھ کی کوالٹی کویقینی بنانے کے لئے نیسلے، حلیب، گورمے، انگرو کے پروسیسنگ یونٹس سمیت ڈیری فارمز کی چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ملاوٹ اور گندے انڈوں کا استعمال کرنے والی بیکریوں کے خلاف بھی کاروایاں کی گئیں۔اسی طرح ایک جعلی منرل واٹر بنانے والی فیکٹری کو بھی سیل کیا گیا۔

افغانستان کو پولٹری ایکسپورٹ بین کرنے کے فیصلے سے متعلقہ پشاور ہائیکورٹ میں جاری کیس کی سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ سماعت 24 دسمبر کو وزارت تجارت کی جانب سے رپورٹ جمع نہ کروانے کی باعث ملتوی ہوئی۔اگرچہ گزشتہ ماہ اس پابندی کے باوجود مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمت میں اچانک خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا مگر پھر بھی اس پابندی کے باعث پولٹری انڈسٹری ایک بڑے نقصان سے دوچار ہو چکی ہے۔۔ پولٹری کی ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ یورپ کو مچھلی کی ایکسپورٹ سے متعلق بھی عجیب خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

پاکستان سے یورپ کو سمندری حیات کی ایکسپورٹ پر پابندی کے باوجود ترسیل جاری ہے ۔ یہ ترسیل دھوکہ دہی کے تحت ہو رہی ہے جس میں مچھلی پر بنگالی ٹیگ لگایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ایکسپورٹرز کا ایک گروہ ملوث ہے۔ واضح رہے کہ اس ایکسپورٹ کے نتیجے میں قومی خزانے کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ محکمہ ماہی پروری سے ایک اور خبر یہ ہے کہ مچھلی کے معیار اور انسپیکشن میں بہتری کے لئے پنجاب فشریز آرڈیننس میں پانچ سال پہلے ترامیم کی جا چکی ہیں مگر اس کے باوجود اس پر قوانین نہیں بنائے گئے۔ اس کی وجہ سے شہری غیرمعیاری اور حفظانِ صحت کے منافی مچھلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس آرڈیننس کے مطابق محکمہ ماہی پروری مچھلی کے معیار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی انسپکشن کا مجاز ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مچھلی کی فروخت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لئے محکمہ کی منظوری لینی ہو گی۔ دوسری جانب مچھلی کے معیار کا تعین کرنے کے لئے محکمہ کی جانب سے کوالٹی کنٹرول لیب بھی بنائی گئی ہے جو کہ 2013 سے غیر ترقیاتی فنڈ میں شامل ہو جائے گی ۔ محکمہ کے ڈائریکٹر کے مطابق قوانین کی تشکیل آخری مراحل میں جو کہ جلد مکمل ہو جائے گی۔

وائلڈ لائف سے خبر یہ ہے عیدین کی طرح کرسمس پر بھی چڑیا گھر میں خوب رش رہا۔ کرسمس کے موقع پر چڑیا گھر کو 6 لاکھ روپے سے زائد کی آمدن ہوئی۔ کرسمس کے حوالے سے چڑیا گھر کے مسیحی ملازمین کے لئے ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔چڑیا گھر سے متعلق ایک خبر یہ بھی سامنے آئی کہ جانوروں کی بہتر افزائش کے لئے چڑیا گھروں کے مابین جانوروں کے تبادلے کیے جائیں گے جبکہ اس کی منظوری ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف نے دے دی ہے۔دوسری جانب سفاری پارک کے شیروں کا خون دو سال بعد بول اٹھا۔پارک میں انتظامی غفلت کے باعث 2010 میں ہلاک ہونے والے شیروں کے کیس میں انکوائری افسر نے اس وقت کے ڈپڑی ڈائریکٹر ریاض احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساجد لطیف کو جبری رخصت پر بھیجنے جبکہ ویٹرنری ڈاکٹر واصف اور انیمل کیپر عمران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کر دی اس کے ساتھ ساتھ سپروائزر نعیم طارق کی پانچ سال کی ملازمت ضبط کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر خالد محمود شوق اور ان کے رفقاء کی جانب سے نیشنل ویٹرنری کلب کے قیام کے لئے سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب نے گزشتہ ماہ لاہور کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملاقات کی۔

بابائے پولٹری ڈاکٹر عبدالغفور چوہدری کی برسی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ بابائے پولٹری کی یاد میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایک سیمینار کے نعقادکا بھی اعلان کیا گیا تھا مگر شدید دھند کے باعث اسے ملتوی کرنا پڑا۔

گزشتہ ماہ کچھ افسوسناک خبریں بھی سننے کو ملیں ۔ فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق ڈین ڈاکٹر نصرت اقبال وفات پا گئے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی 1973-74 کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری محمد اسلم سگو عرف مولوی محمد اسلم کی جدائی کا غم بھی دسمبر میں سہنا پڑا۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بشیر بھٹی کی ہمشیرہ، فارورڈ سلوشنز کے زونل مینجر ڈاکٹر عمار محمود کے والد ،پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے رجسٹرار کرنل (ر) محمد علی اصغر رضا کی بہو اور پاکستان ایگریکلچرل سائنس فورم کے صدر حافظ وصی محمد خاں کے برادر نسبتی بھی گزشتہ ماہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے آمین ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More