زرعی یونیورسٹی ہینڈ آؤٹ

Seminar
Seminar

فیصل آباد 17۔ دسمبر ( ) نوجوان سائنسدانوں میں تحقیقی مہارتوں کو فروغ دے کر ملکی معیار تعلیم کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقبل کے چیلنجز سے عہدہ برآء ہونے کے لئے تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان باتوں کا اظہار پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر منظورحسین سومرو نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی دی ایگریرین سوسائٹی کلیہ زراعت کے زیراہتمام پانچویں نوجوان محققین کی مہارتوں میں نکھار کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب کا اہتمام نیشنل اکیڈمی آف ینگ سائنٹسٹس کے باہمی اشتراک سے کیا گیا تھا۔ تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کی۔ڈاکٹر منظور حسین سومرو نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لئے تحقیقی مہارت کی اہمیت کے مدنظر نیشنل اکیڈمی آف ینگ سائنٹسٹس کی جانب سے ملک کی مختلف جامعات کے سائنسدانوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کے ذریعے نہ صرف انہیں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ انہیں اپنی استعداد کار میں اضافے کے لئے نئی سمت متعین کرنے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ دنیا بھر میں نوجوان نسل کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کارکردگی دکھانے کے لئے بھاری وسائل اور ترغیبات دی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں وسائل کی کمی کی وجہ سے حقیقی معنوں میں سائنس کلچر پروان نہیں چڑھ سکا۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد بوڑھے افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا ہمیں نئی نسل کو سائنس کے دھارے میں لا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لانے پر توجہ دینا ہو گی۔ نیشنل اکیڈمی آف ینگ سائنٹسٹس کے نمائندے آفتاب احمد نے کہا کہ ملک بھر میں اس اکیڈمی کے 35سو سے زائد رجسٹرڈ ممبران ہیں جو کہ اپنی مہارتوں اور استعداد میں اضافے کے لئے بین الاقوامی معیار کے مطابق کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تربیتی ورکشاپس کے ذریعے پاکستان بھر کے نوجوان سائنسدانوں کو عالمی جرائد میں مقالہ جات چھپوانے کے علاوہ مختلف انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کے لئے رہنمائی کی جا رہی ہے۔ ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ پاکستان میں سائنسی تحقیق کے لئے اگر ابتدائی ڈھانچہ مضبوط بنیادوں پر استوار کر لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی سائنسدان بین الاقوامی افق پر اپنی صلاحیتوں کا سکہ نہ منوا سکیں۔ دی ایگریرین سوسائٹی کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر محمد امجد اولکھ نے کہا کہ ان کی سوسائٹی زراعت اور دیہی ترقی کے لئے نوجوان نسل کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عملی میدان میں بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ تقریب سے سوسائٹی کے صدر محمد احسن خان نے بھی خطاب کیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More