مور پالنے کے لیے ضروری ہدایات

ڈاکٹر احسان الحق،محمد اشرف اور شاہدالرحمن

(مور پالنے کے لیے ضروری ہدایات) Peacock Farming

ڈیپارٹمنٹ آف پولٹری سائنس، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد
مور ایک خوبصورت پرندا ہے۔ اس کو صرف شوقیہ طور پر سجاوٹ کے لیے پالا جاتاہے۔ مور کی مندرجہ ذیل مہشور نسلیں ہیں
نیلا یا انڈین مور یہ انڈیاکے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
کو نگو مور یہ زائر کے جنگلات میں پایا جاتاہے۔
سبز مور یہ بر ما کے جاوا تک کے علاقو ں میں پایا جاتاہے۔

مور کی رہائش
مور کے لیے جو گھر یا ڈربہ تیار کیا جائے اس کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہونی چاہیے
گھر کی لمبائی 20 فٹ ، چوڑائی 18 فٹ اور اونچائی 9 فٹ کافی ہے۔
– ڈربے میں جھولے لگائے جائیں۔ جھولے اس طرح لگائے جائیں کی مور کے پر دربے / گھر کی دیواروں کے ساتھ نہ لگیں۔

 ڈربے کے دونو ں طرف کھلی اور ہو ا دار جگہ ہونی چاہیے
نایئلون کی جالیاں استعمال کر نی چا ہیں تاکہ مور زخمی ہونے سے محفوظ رہ سکیں ۔
گھر کے اندر کوئی بھی تیزچیزجو اس کو زخمی کر سکے موجود نہیں ہونی چا ہیے۔
۔گھر یا ڈربے کے کونے گول ہونے چاہییے۔
بروڈنگ کے دوارن بچھالی کے طور پر لکڑی کا برادہ ضرور استعمال کر یں اور برادے کو خشک رکھیں
گھر کو صا ف ستھرا رکھیں اور ہو دار رکھیں تاکہ مور بیماریوں سے بچے رہیں۔

دیکھ بھال کے ضروری کا م
مور کی صیح پرورش کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کا ہونا ضروری ہے
مور کا گھر کھلاہونا چاہیے جس میںآسانی سے پھر سکے
ایک مور کو چار سے پانچ مادہ کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔
جنوری اور مارچ کے مہینوں میں مورنی 8تا20 انڈے دیتی ہے اور اپنے بچوں کو چونچ سے کھلاتی ہے۔
بچو ں کی خوراک میں چھوٹے سانپ ،کیڑے مکورے اور بیج وغیرہ شامل ہیں۔ ان چوزوں کو زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسکے لیے ابلے ہونے انڈے ان کی خورک میں شامل کریں۔
بروڈنگ کے دوران پہلے ہفتے کمرے کا درجہ حرارت 95ڈگری فارن ہائیٹ اور ہر ہفتے کمرے کا درجہ حرارت 5ڈگر ی فارن ہائیٹ تک کم کرتے جائیں اور 75 ڈگری کے بعد مزید درجہ حرارت کم نہ کریں۔
مور کے بچوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہو تی ہے اس لیے بہت احتیاط کریں۔
مورکے انڈوں سے 28 سے 30 دن بعد بچے نکلتے ہیں
موروں کی خورک میں پہلے 4 ہفتے تک 30 فیصد پروٹین والی خوراک دیں اور اس کے بعد 26 فیصد والی خوراک دیں۔

موروں میں ایک دوسرے کو کاٹنے سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کی اوپر والی چونچ ایک تہائی کاٹ دی جاتی ہے۔
پرندون کو اڑنے سے بچانے کے لیے ان کے اڑنے والے پر اکھیڑ لیے جاتے ہیں۔ زخموں پر انیٹی بائیوٹک پاوڈ رلگا دیا جاتاہے
پرندوں کے ناخن کاٹنا بہت ضروری ہے تاکہ اُن کی بڑھوتری کو روکا جائے ۔ناخن کاٹنا بہت ضروری ہے تاکہ اُن کی بڑھوٹری کو جائے ۔ بڑاناخن (Spur)کو چھوٹی عمر میں ہی کا ٹ دیا جانا چاہیے۔
مور کی مشہور بیماریوں میں رانی کھیت ، چچک ٹی بی ، پلورم اور ہیضہ شامل ہی ہیں۔
موروں کو بیرونی کر موں سے محفوظ رکھنے کے لیے راکھ میں ڈڈٹی پاودر ملا کر ملیں
اندرونی کرموں سے بچانے کے لیے  (Deworming)

محفوط رکھنے کے لے خوراک میں کوکسی

ڈائیوسٹیٹ(Cocidiostats) ملا کر دیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More