زرعی یونیورسٹی ہینڈ آؤٹ

فیصل آباد 15۔ دسمبر ( )دنیا میں 41 فیصد توانائی کوئلے کے ذریعے پیدا کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان میں ابھی تک متبادل توانائی کے ذرائع بروئے کار لانے پر توجہ نہیں دی جا سکی ۔

تقریب کے مہمان خصوصی

بالخصوص پنجاب میں 450 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ اضافی بجلی دیگر صو بوں کو بھی مہیا کرنے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی کلیہ زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار برائے’’ متبادل توانائی کی پیدا وار اسکا استعمال اور امکانات‘‘ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عباس چوہدری تھے جبکہ مہمانان اعزاز رکن صو بائی اسمبلی رانا محمد افضل خاں‘ ایڈیشنل سیکرٹری توانائی خالد جاوید رانجھا ‘ پارلیمنٹرین نیوزی لینڈ انجینئر ڈاکٹر محمد اشرف تھے تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کی ۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ زراعت کا براہ راست آبی وسائل اور توانائی کے ساتھ جو تعلق ہے اسے بہتر بنا کر نہ صرف غذائی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر برآمدات کو فروغ بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی مدد سے یونیورسٹی کیمپس پر عالمی معیار کا سینٹر برائے بائیو گیس انرجی قائم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے مر بوط زراعت اور توانائی کے تصور کو بطور ماڈل کسانوں کے لئے پیش کیا جائے گا ۔ ڈاکٹر اقرارا حمد خاں نے کہا کہ جاپان اور جرمنی جیسے ممالک نے توانائی کے سستے ترین ذریعے ایٹمی ٹیکنالوجی کو ترک کرکے اسے شمسی توانائی اور بائیو گیس سے تبدیل کر دیا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے ۔

تقریب کے مہمان خصوصی

وائس چانسلر یو ای ٹی ٹیکسلا ڈاکٹر محمد عباس چوہدری نے کہا کہ جامعات پوری دنیا میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سر گرمیوں کے ذریعے مختلف مسائل کا حل پیش کرتی ہیں لہذا زرعی یونیورسٹی سمیت ملک کی ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کو توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اپنی تحقیقی سر گرمیوں کا رخ اس جانب موڑنا ہو گا ۔ ایڈیشنل سیکرٹری انرجی پنجاب خالد جاوید رانجھا نے کہا کہ ملک میں 6 ہزار میگا واٹ بجلی کی مانگ کے مقابلے میں 2 ہزار میگا واٹ توانائی کی دستیابی کی وجہ سے 4ہزار میگا واٹ کا فرق پورا کرنے کے لئے صو بائی حکومت اپنی سطح پر بھر پور کاوشیں بروئے کار لا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں 3جنوری کو انرجی کے بارے میں نیشنل کانفرنس منعقد ہو گی جس میں متعلقہ تمام فریقین شرکت کریں گے۔ خالد جاوید رانجھا نے کہا کہ پنجاب حکومت چولستان میں 8ہزار ایکڑ رقبے پر شمسی توانائی کا پاور جنریشن پلانٹ لگائے گی جس کے ذریعے ناقابل کاشت رقبے کو پانی کے ذریعے زیر کاشت لانے کے ساتھ ساتھ بجلی کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا ۔ نیوزی لینڈ کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد اشرف چوہدری نے کہا کہ نیوزی لینڈ متبادل توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل ایسا ملک ہے جو اپنی زرعی پیدا وار کا 90فیصد بیرونی دنیا میں ایکسپورٹ کرتا ہے انہوں نے کہا کہ پانچ فیصد توانائی کی ضروریات وہاں ونڈ انرجی کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ دی کلین آلٹر نیٹو انرجی کے شہزادہ خرم نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں سولر انرجی پلانٹ کے علاوہ مینو فیکچرنگ کیلئے مشینری نصب کی جائے گی جس کے ذریعے پاکستان بھر میں سستے سولر پینل تیار کرکے ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں 3.8 میگا واٹ پاور جنریشن پلانٹ بھی لگایا جائے گا جبکہ وزیرا علیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی یونیورسٹی آمد پر 200 طلبہ کے لئے سولر یونٹ بطور عطیہ مہیا کئے جائیں گے ۔ ‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین کلیہ زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر رائے نیاز احمد نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر اقراراحمد خاں کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی ملکی سطح پر متبادل توانائی کے ذرائع پر تحقیق و ترقی کے لئے منصوبوں کا آغاز کرنے والی پہلی جامعہ کا اعزاز رکھتی ہے جسے مزید بہتر بنانے کے لئے حکومت پنجاب اور نجی کمپنیوں کی وساطت سے کاوشیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں ‘ رکن صو بائی اسمبلی رانا محمد افضل خاں نے کہا کہ میاں محمد شہباز شریف پنجاب میں نہری نظام پر 6 سو میگا واٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کر رہے ہیں جبکہ تونسہ ہیڈ ورکس پر 120 میگا واٹ کا منصوبہ زیر تکمیل ہے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ سال تک یہ منصوبے پیدا وار کا آغاز کر دیں گے‘تقریب سے ترقی پسند کاشتکار ممتاز خاں منہیس ‘ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈاکٹر محمد نواز اختر‘ ڈاکٹر محمد غفار ڈوگر‘فیسکو کے محمد اقبال غوری‘سوئزر لینڈ کے سائنسدان ڈاکٹر اینٹن جوزف اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔

 

Courtesy: Zarai Media Team

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More